حدیث نمبر: 1126
وَعَنْ أَبِي غَالِبٍ أَنَّهُ لَقِيَ أَبَا أُمَامَةَ بِحِمْصَ فَسَأَلَهُ عَنْ أَشْيَاءَ ، حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَقُولُ : " مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَسْمَعُ أَذَانَ صَلَاةٍ ، فَقَامَ إِلَى وُضُوئِهِ - إِلَّا غُفِرَ لَهُ بِأَوَّلِ قَطْرَةٍ تُصِيبُ كَفَّهُ مِنْ ذَلِكَ الْمَاءِ ، فَبِعَدَدِ ذَلِكَ الْقَطْرِ ، حَتَّى يَفْرَغَ مِنْ وُضُوئِهِ - إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا سَلَفَ مِنْ ذُنُوبِهِ ، وَقَامَ إِلَى صِلَاتِهِ وَهِيَ نَافِلَةٌ " . قَالَ أَبُو غَالِبٍ : قُلْتُ لِأَبِي أُمَامَةَ : أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : أَيْ وَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا ، غَيْرَ مَرَّةٍ ، وَلَا مَرَّتَيْنِ ، وَلَا ثَلَاثٍ ، وَلَا أَرْبَعٍ ، وَلَا خَمْسٍ ، وَلَا سِتٍّ ، وَلَا سَبْعٍ ، وَلَا ثَمَانٍ ، وَلَا تِسْعٍ ، وَلَا عَشْرٍ وَعَشْرٍ وَصَفَّقَ بِيَدَيْهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . ¤
محمد محی الدین

ابوغالب بیان کرتے ہیں : ” حمص “ میں اُن کی ملاقات سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، انہوں نے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے کچھ چیزوں کے بارے میں سوال کیا ، تو سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو بتایا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو مسلمان بندہ نماز کے لئے اذان سن کر وضو کرنے کے لیے اٹھتا ہے تو اس پانی میں سے اس کی ہتھیلی کو جو پہلا قطرہ لگتا ہے اس کے ہمراہ اس شخص کی مغفرت ہو جاتی ہے اور ان قطروں کے حساب سے ( اس کی مغفرت ہوتی ہے ) یہاں تک کہ جب وہ وضو سے فارغ ہوتا ہے ، تو اس کے گزشتہ تمام گناہوں کی مغفرت ہو چکی ہوتی ہے ، اور جب وہ نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے ، تو وہ اس کے لئے اضافی ( اجر و ثواب کے حصول کا باعث ) ہوتی ہے “ ۔ ابوغالب بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : کیا آپ نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ خوشخبری سنانے والا ، اور ڈرانے والا ، بنا کر مبعوث کیا ہے ، ایک مرتبہ نہیں ، دو مرتبہ نہیں ، تین مرتبہ نہیں ، چار مرتبہ نہیں ، پانچ مرتبہ نہیں ، چھ مرتبہ نہیں ، سات مرتبہ نہیں ، آٹھ مرتبہ نہیں ، نو مرتبہ نہیں ، دس مرتبہ نہیں ، دس ( مزید ) مرتبہ ( نہیں ، یعنی اس سے بھی زیادہ مرتبہ ، میں نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے ) اُنہوں نے اپنے دونوں ہاتھ ملا کر یہ بات کہی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1126
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح