مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ الْوُضُوءِ . باب: وضو کی فضیلت
وَعَنْ أَبِي مُسْلِمٍ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أَبِي أُمَامَةَ وَهُوَ يَتَفَلَّى فِي الْمَسْجِدِ وَيَدْفِنُ الْقَمْلَ فِي الْحَصَى ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا أُمَامَةَ ، إِنَّ رَجُلًا حَدَّثَنِي عَنْكَ أَنَّكَ قُلْتَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ؛ غَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ وَمَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَفْرُوضَةِ - غَفَرَ اللَّهُ لَهُ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ مَا مَشَتْ رِجْلَاهُ ، وَقَبَضَتْ عَلَيْهِ يَدَاهُ ، وَسَمِعَتْ إِلَيْهِ أُذُنَاهُ ، وَنَظَرَتْ إِلَيْهِ عَيْنَاهُ ، وَحَدَّثَ بِهِ نَفْسَهُ مِنْ سُوءٍ " . قَالَ : وَاللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا لَا أُحْصِيهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو مُسْلِمٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ بِثِقَةٍ وَلَا جَرْحٍ ، غَيْرَ أَنَّ الْحَاكِمَ ذَكَرَهُ فِي الْكُنَى ، وَقَالَ : رَوَى عَنْهُ أَبُو حَازِمٍ . وَهُنَا رَوَى عَنْهُ أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ . وَكَذَلِكَ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ . ¤ابومسلم بیان کرتے ہیں : میں سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، وہ اس وقت مسجد میں بیٹھے ہوئے جوئیں نکال رہے تھے اور جوؤں کو کنکریوں میں دفن کر دیتے تھے ، میں نے کہا: اے سیدنا ابوامامہ ! ایک شخص نے مجھے آپ کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے یہ کہا ہے : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص وضو کرتے ہوئے ، اچھی طرح وضو کرے ، اپنے دونوں بازؤں اور چہرے کو دھوئے ، اپنے سر اور کانوں پر مسح کرے پھر فرض نماز کی ادائیگی کے لئے کھڑا ہو جائے ، تو اللہ تعالی اس شخص کے اس دن کے ان گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہے ، جن کے لیے وہ اپنے قدموں پر چل کر گیا ، جنہیں اس نے اپنے ہاتھ کے ذریعے کیا ، جنہیں اس کے کانوں نے سنا ، یا جنہیں اس کی آنکھوں نے دیکھا ، جو اس نے برا سوچا ( اس کے اس دن کے ، ایسے تمام گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ) ۔ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے یہ بات اللہ کے نبی کی زبانی اتنی مرتبہ سنی ہے ، جسے میں شمار نہیں کر سکتا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومسلم ہے ، میں نے کسی کو اس راوی کے حالات توثیق یا جرح کے ہمراہ ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ، البتہ امام حاکم رحمہ اللہ نے اس کا ذکر کنیت سے متعلق باب میں کیا ہے اور یہ بات بیان کی ہے : ابوحازم نے اس سے روایت نقل کی ہے ، جبکہ یہاں جو روایت مذکور ہے ، وہ ابان بن عبداللہ نے اس سے نقل کی ہے ، ابن ابوحاتم نے بھی اسی طرح اس کا ذکر کیا ہے ۔