مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
تَفْسِيرُ قِصَّةِ الْإِفْكِ باب: واقعہ افک کی تفسیر
حدیث نمبر: 11226
وَعَنْ مُجَاهِدٍ فِي قَوْلِهِ أُولَئِكَ مُبَرَّؤُونَ مِمَّا يَقُولُونَ فَمَنْ كَانَ طَيِّبًا فَهُوَ مُبَرَّأٌ مِنْ كُلِّ قَوْلٍ خَبِيثٍ يَقُولُهُ بِمَغْفِرَةِ اللَّهِ لَهُ ، وَمَنْ كَانَ خَبِيثًا فَهُوَ مُبَرَّأٌ مِنْ كُلِّ قَوْلٍ صَالِحٍ قَالَهُ يَرُدُّهُ اللَّهُ عَلَيْهِ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
مجاہد ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” وہ لوگ اس چیز سے لاتعلق ہیں ، جو وہ ( دوسرے لوگ ) کہتے ہیں “ ( مجاہد کہتے ہیں : ) تو جو شخص پاکیزہ ہو گا وہ ہر خبیث بات سے لاتعلق ہو گا اور اللہ تعالیٰ کی مغفرت اسے نصیب ہو گی اور جو شخص خبیث ہو گا وہ ہر اچھی بات سے لاتعلق ہو گا اور اللہ تعالیٰ اس کو لوٹا دے گا اور اُس سے اچھی بات قبول نہیں کرے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔