حدیث نمبر: 11225
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أُولَئِكَ يَعْنِي الطَّيِّبِينَ مِنَ الرِّجَالِ مُبَرَّؤُونَ مِمَّا يَقُولُونَ [ يَعْنِي : مِمَّا يَقُولُ هَؤُلَاءِ الْقَاذِفُونَ الَّذِينَ قَذَفُوا عَائِشَةَ : هُمْ بَرَاءٌ مِنَ الْكَلَامِ السَّيِّءِ ، ثُمَّ قَالَ ] لَهُمْ مَغْفِرَةٌ يَعْنِي لِذُنُوبِهِمْ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ يَعْنِي حَسَنًا فِي الْجَنَّةِ . فَلَمَّا نَزَلَ عُذْرُ عَائِشَةَ ضَمَّهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى نَفْسِهِ وَهِيَ مِنْ أَزْوَاجِهِ فِي الْجَنَّةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” وہ لوگ “ یعنی پاکیزہ مرد ” اس چیز سے لاتعلق ہیں جو وہ کہتے ہیں “ یعنی الزام لگانے والے لوگ جو کہتے ہیں ، جنہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگایا ، تو وہ پاکیزہ لوگ اس برے کلام سے لاتعلق ہیں ، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ” ان لوگوں کے لئے مغفرت ہے “ اس سے مراد یہ ہے کہ ان لوگوں کے گناہوں کی مغفرت ہے اور انہیں معزز رزق عطا کیا جائے گا یعنی جنت میں اچھائی عطا کی جائے گی جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لاتعلق ہونے کا حکم نازل ہو گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے ساتھ ملا لیا اور وہ جنت میں بھی آپ کی ازواج میں سے ایک ہوں گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11225
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف