حدیث نمبر: 11227
وَعَنْ مُجَاهِدٍ فِي قَوْلِهِ أُولَئِكَ مُبَرَّؤُونَ مِمَّا يَقُولُونَ وَذَلِكَ أَنَّهُمْ مَا قَالَ الْكَافِرُ مِنْ كَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ فَهِيَ لِلْمُؤْمِنِينَ ، وَمَا قَالَ الْمُؤْمِنُ مِنْ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍ فَهِيَ لِلْكَافِرِينَ ، بَرِيءٌ كُلٌّ مِمَّا لَيْسَ لَهُ بِحَقٍّ مِنَ الْكَلَامِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَلَهُ إِسْنَادٌ آخَرُ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

مجاہد ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” وہ لوگ اس چیز سے لاتعلق ہیں ، جو وہ ( دوسرے لوگ ) کہتے ہیں “ ۔ مجاہد کہتے ہیں : اس کی وجہ یہ ہے کہ کافر جو پاکیزہ بات کہے گا وہ مومنین کے لئے مخصوص ہو گی اور مومن جو بری بات کہے گا وہ کافروں کے لئے مخصوص ہو گی اور ان میں سے ہر ایک اُس چیز سے لاتعلق شمار ہو گا جو کلام کے حوالے سے اس کا مخصوص حق نہیں ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اس کی ایک اور ضعیف سند بھی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11227
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (161/23)»