حدیث نمبر: 11224
وَعَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ قَالَ : لَمَّا خَاضَ النَّاسُ فِي أَمْرِ عَائِشَةَ أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عَائِشَةَ قَالَتْ : فَجِئْتُ وَأَنَا أَنْتَفِضُ مِنْ غَيْرِ حُمَّى ، فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ مَا يَقُولُ النَّاسُ ؟ " ، فَقَالَتْ : لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَعْتَذِرُ مِنْ شَيْءٍ قَالُوهُ حَتَّى يَنْزِلَ عُذْرِي مِنَ السَّمَاءِ . فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِيهَا خَمْسَ عَشْرَةَ آيَةً مِنْ سُورَةِ النُّورِ . ثُمَّ قَرَأَ الْحُكْمَ حَتَّى بَلَغَ الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَاتِ وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَاتِ قَالَ : فَالْخَبِيثَاتُ مِنَ النِّسَاءِ لِلْخَبِيثِينَ مِنَ الرِّجَالِ ، وَالْخَبِيثُونَ مِنَ الرِّجَالِ لِلْخَبِيثَاتِ مِنَ النِّسَاءِ ، وَالطَّيِّبَاتُ مِنَ النِّسَاءِ لِلطَّيِّبِينَ مِنَ الرِّجَالِ ، وَالطَّيِّبُونَ مِنَ الرِّجَالِ لِلطَّيِّبَاتِ مِنَ النِّسَاءِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِنْ كَانَ سُلَيْمَانُ الْمُبْهَمُ سُلَيْمَانَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيَّ ، وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ هُوَ . ¤
محمد محی الدین

حکم بن عتیبہ بیان کرتے ہیں : جب لوگوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے معاملے میں بات چیت شروع کی ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام بھیجا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں آئی اور مجھے بخار نہیں تھا ، لیکن میں اضطراب کا شکار تھی ( یا کپکپا رہی تھی ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے عائشہ ! لوگ کیا کہہ رہے ہیں ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، لوگ جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کے حوالے سے میں کوئی عذر پیش نہیں کروں گی ، جب تک آسمان سے میرے لاتعلق ہونے کا حکم نازل نہیں ہوتا ، تو اللہ تعالیٰ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں سورت نور کی پندرہ آیات نازل کیں ، پھر حکم نامی راوی نے یہ آیات تلاوت کیں ، یہاں تک کہ وہ اس مقام پر پہنچے : ” خبیث عورتیں ، خبیث مردوں کے لئے اور خبیث مرد ، خبیث عورتوں کے لئے اور پاکیزہ عورتیں ، پاکیزہ مردوں کے لئے اور پاکیزہ مرد ، پاکیزہ عورتوں کے لئے مخصوص ہیں “ ۔ حکم بیان کرتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ خبیث عورتیں ، خبیث مردوں کے لئے ہیں اور خبیث مرد ، خبیث عورتوں کے لئے ہیں اور پاکیزہ مرد ، پاکیزہ عورتوں کے لئے ہیں اور پاکیزہ مرد ، پاکیزہ عورتوں کے لئے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، اگر تو سلیمان نامی راوی جو مبہم ہے ، وہ سلیمان بن عبدالرحمن دمشقی ہے ، تو بظاہر یہی لگتا ہے کہ یہ وہی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11224
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مرسل،
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (160/23)»