مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
تَفْسِيرُ قِصَّةِ الْإِفْكِ باب: واقعہ افک کی تفسیر
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ فِي قَوْلِهِ الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَاتِ وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَاتِ قَالَ : نَزَلَتْ فِي عَائِشَةَ حِينَ رَمَاهَا الْمُنَافِقُ بِالْبُهْتَانِ وَالْفِرْيَةِ ، فَبَرَّأَهَا اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ هُوَ خَبِيثًا فَكَانَ هُوَ أَوْلَى بِأَنْ تَكُونَ لَهُ الْخَبِيثَةُ وَيَكُونَ لَهَا ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَيِّبًا وَكَانَ أَوْلَى أَنْ تَكُونَ لَهُ الطَّيِّبَةُ ، وَكَانَتْ عَائِشَةُ الطَّيِّبَةَ وَكَانَتْ أَوْلَى أَنْ يَكُونَ لَهَا الطَّيِّبُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ . ¤عبدالرحمن بن زید بن اسلم ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لئے ہیں اور خبیث مرد ، خبیث عورتوں کے لئے ہیں اور پاکیزہ عورتیں ، پاکیزہ مردوں کے لئے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لئے ہیں “ ۔ عبدالرحمن بن زید بیان کرتے ہیں یہ آیت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی تھی ، جب منافقین نے ان پر الزام اور بہتان لگایا تھا تو اللہ تعالیٰ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لا تعلق ہونے کا اظہار کیا اور عبداللہ بن ابی ایک خبیث شخص تھا ، وہ اس بات کا زیادہ حق دار تھا کہ خبیث چیز اس کے لئے مخصوص ہو اور وہ خبیث چیز کے لئے مخصوص ہو اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پاکیزہ تھے اور آپ کی شان کے لائق یہ تھا کہ آپ کے لئے پاکیزہ ( بیوی ) ہو ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پاکیزہ تھیں اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کی زیادہ حق دار تھیں کہ ان کے لئے پاکیزہ ( شوہر ) ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال عبدالرحمن بن زید بن اسلم تک ثقہ ہیں ۔