مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
تَفْسِيرُ قِصَّةِ الْإِفْكِ باب: واقعہ افک کی تفسیر
وَبِسَنَدِهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينِ يَعْنِي السَّيِّئَ مِنَ الْكَلَامِ قَذْفَ عَائِشَةَ وَنَحْوَهُ لِلْخَبِيثِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ ، يَعْنِي الَّذِينَ قَذَفُوهَا ، وَالْخَبِيثُونَ يَعْنِي مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ لِلْخَبِيثَاتِ يَعْنِي السَّيِّئَ مِنَ الْكَلَامِ لِأَنَّهُ يَلِيقُ بِهِمُ الْكَلَامُ السَّيِّئُ . ثُمَّ قَالَ وَالطَّيِّبَاتُ يَعْنِي الْحَسَنَ مِنَ الْكَلَامِ لِأَنَّهُ يَلِيقُ بِهِمُ الْكَلَامُ الْحَسَنُ . ¤اس سند کے ساتھ سعید بن جبیر کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ( وہ فرماتے ہیں : ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” خبیثات خبیثوں کے لئے “ ۔ اس سے مراد بری بات کرنے والے لوگ ہیں ، جیسے وہ لوگ جنہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی ، تو خبیث مردوں اور عورتوں کے لئے یہ حکم آیا ہے یعنی وہ جنہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگایا تھا اور خبیث لوگ یعنی مردوں اور خواتین سے تعلق رکھنے والے خبیث لوگ خبیث چیزوں کے لئے ہیں ، یعنی برے کلام کے لئے ہیں ، کیونکہ برا کلام کرنا ان لوگوں کے لائق ہے ، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا : طیبات یعنی پاکیزہ کلام پاکیزہ لوگوں کے لئے یعنی مردوں اور خواتین کے لئے ہے ، یعنی وہ لوگ جنہوں نے مومن مردوں اور مومن خواتین کے بارے میں بھلائی کا گمان کیا اور طیب لوگ یعنی مردوں اور خواتین سے تعلق رکھنے والے لوگ ، طیب چیزوں یعنی عمدہ کلام کے لئے ہیں ، کیونکہ ان لوگوں کے لائق صرف اچھا کلام ہے اور وہ لوگ ہی اچھے کلام کے لائق ہیں ۔