مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
تَفْسِيرُ قِصَّةِ الْإِفْكِ باب: واقعہ افک کی تفسیر
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ إِنَّ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ يَعْنِي إِنَّ الَّذِينَ يَقْذِفُونَ بِالزِّنَا ، يَعْنِي : لِفُرُوجِهِنَّ عَفَائِفَ ، الْغَافِلَاتِ يَعْنِي : عَنِ الْفَوَاحِشِ ، يَعْنِي : عَائِشَةَ ، الْمُؤْمِنَاتِ يَعْنِي : الصَّادِقَاتِ ، "لُعِنُوا " جُلِدُوا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ يَعْنِي : عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ ابْنَ سَلُولَ يُعَذَّبُ بِالنَّارِ لِأَنَّهُ مُنَافِقٌ ، وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ قَالَ : جَلَدَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ وَمِسْطَحًا وَحَمْنَةَ بِنْتَ جَحْشٍ ، كُلَّ وَاحِدٍ ثَمَانِينَ جَلْدَةً فِي قَذْفِ عَائِشَةَ ، ثُمَّ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ رَأْسِ الْمُنَافِقِينَ مَاتَ عَلَى نِفَاقِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” بے شک وہ لوگ جو پاکدامن عورتوں پر الزام لگاتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جو لوگ زنا کا الزام لگاتے ہیں ، ان خواتین پر ، جو اپنی شرمگاہوں کے حوالے سے پاکیزہ ہوتی ہیں ، یعنی پاکدامن ہوتی ہیں ، ” جو غافل ہوں “ ۔ یعنی برائیوں سے غافل ہوں ، اس سے مراد سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہیں ” جو مومن ہوں “ ۔ یعنی تصدیق کرنے والی ہوں ” ان لوگوں پر لعنت کی گئی ہے “ ۔ یعنی ان کو اسی کوڑے لگائے جائیں گے ” دنیا میں اور آخرت میں “ ۔ اس سے مراد عبداللہ بن اُبی بن سلول ہے کہ جسے آخرت میں آگ کا عذاب دیا جائے گا کیونکہ وہ منافق ہے ” اور ان لوگوں کے لئے بڑا عذاب ہے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن ابی اور سیدنا مسطح رضی اللہ عنہ اور سیدہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا ان میں سے ہر ایک کو اسی کوڑے لگوائے تھے ، جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگانے کی وجہ سے تھے ، اُس کے بعد عبداللہ بن ابی ، جو منافقین کا سردار تھا ، اس کے علاوہ باقی سب نے توبہ کر لی تھی اور وہ اپنے نفاق پر ہی مرا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔