مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
تَفْسِيرُ قِصَّةِ الْإِفْكِ باب: واقعہ افک کی تفسیر
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَرَأَ سُورَةَ النُّورِ فَفَسَّرَهَا حَتَّى أَتَى هَذِهِ الْآيَةَ : إِنَّ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ لُعِنُوا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ قَالَ : هَذِهِ فِي شَأْنِ عَائِشَةَ وَأَزْوَاجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ يَجْعَلْ لِمَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ تَوْبَةً ، وَجَعَلَ لِمَنْ رَمَى امْرَأَةً مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ مِنْ غَيْرِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - التَّوْبَةَ ، ثُمَّ قَرَأَ : وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا وَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ فَجَعَلَ لِمَنْ قَذَفَ امْرَأَةً مِنَ الْمُؤْمِنِينَ التَّوْبَةَ ، وَلَمْ يَجْعَلْ لِمَنْ قَذَفَ امْرَأَةً مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَوْبَةً ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ : لُعِنُوا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ . فَهَمَّ بَعْضُ الْقَوْمِ أَنْ يَقُومَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَيُقَبِّلَ رَأْسَهُ لِحُسْنِ مَا فَسَّرَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَفِي هَذَا الْإِسْنَادِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَهُوَ أَمْثَلُهَا . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے سورت نور کی تلاوت کی اور اس کی تفسیر کرتے رہے یہاں تک کہ وہ اس آیت پر پہنچے : ” بے شک وہ لوگ جو پاکدامن غافل مؤمن خواتین پر الزام لگاتے ہیں ان لوگوں پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی گئی ہے اور ان لوگوں کے لئے بڑا عذاب ہو گا “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے بارے میں ہے ، جو شخص ایسا کرے گا ، اس کی توبہ قبول نہیں ہو گی ، لیکن جو شخص مومن خواتین میں سے کسی عورت پر الزام لگاتا ہے ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے علاوہ ہو ، تو اس کے لئے توبہ کی گنجائش ہے ، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : وہ لوگ جو پاکدامن عورتوں پر الزام لگاتے ہیں اور پھر چار گواہ نہیں لے کر آتے ، تم انہیں اسی کوڑے لگاؤ اور ان کی گواہی کبھی قبول نہ کرنا ، یہی لوگ فاسق ہیں ، البتہ ان لوگوں کا معاملہ مختلف ہے ، جو اس کے بعد توبہ کر لیں اور اصلاح کریں ، بے شک اللہ تعامل مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہے “ تو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مومن عورت پر الزام لگانے والے کے لئے توبہ کا حق مقرر کیا ہے ، لیکن جو شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے ، کسی خاتون پر الزام لگائے ، اُس کے لئے توبہ کو مقرر نہیں کیا ، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ” ان لوگوں پر دنیا میں اور آخرت میں لعنت کی گئی ، اور ان لوگوں کے لئے عظیم عذاب ہو گا “ ۔ تو حاضرین میں سے ایک صاحب اُٹھ کر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گئے اور ان کے سر کو بوسہ دیا ، جو اس کی عمدہ تفسیر کی وجہ سے تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جس کی ایک سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور یہ اس کی مانند ہے ۔