مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
تَفْسِيرُ قِصَّةِ الْإِفْكِ باب: واقعہ افک کی تفسیر
وَعَنْ مُجَاهِدٍ فِي قَوْلِهِ وَلَا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ قَالَ : أَبُو بَكْرٍ حَلَفَ أَنْ لَا يَنْفَعَ يَتِيمًا كَانَ فِي حَجْرِهِ ، قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ : وَهُوَ مِسْطَحُ بْنُ أُثَاثَةَ بْنِ عَبَّادِ بْنِ الْمُطَّلِبِ أَشَاعَ ذَلِكَ ، فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ قَالَ أَبُو بَكْرٍ : بَلَى أَنَا أُحِبُّ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لِي ، وَأَكُونَ لِلْيَتَامَى خَيْرَ مَا كُنْتُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . وَرَوَاهُ بِإِسْنَادٍ آخَرَ عَنْهُ ضَعِيفٍ . وَرَوَى نَحْوَهُ عَنْ قَتَادَةَ وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ ، وَرَوَى نَحْوَهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ إِلَّا أَنَّهُ زَادَ : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَأَبِي بَكْرٍ : " أَلَا تُحِبُّ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكَ ؟ " ، قَالَ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَاعْفُ وَاصْفَحْ " ، قَالَ : قَدْ عَفَوْتُ وَصَفَحْتُ ، لَا أَمْنَعُهُ مَعْرُوفًا بَعْدَ الْيَوْمِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤مجاہد ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور تم میں سے فضیلت والے اور گنجائش والے لوگ یہ قسم نہ اُٹھائیں“ مجاہد بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ قسم اٹھائی تھی کہ وہ اپنے زیر پرورش یتیم شخص کو کوئی نفع نہیں پہنچائیں گے ۔ عبدالملک نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے : وہ صاحب سیدنا مسطح بن اثاثہ بن عباد بن مطلب تھے ، جنہوں نے اس بات کو پھیلایا تھا ، جب یہ آیت نازل ہوئی : ” کیا تم لوگ اس بات کو پسند نہیں کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کرے ؟ “ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں ! میں یہ پسند کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری مغفرت کرے اور اب میں یتیموں کے حق میں پہلے سے زیادہ بہتر ہو جاؤں گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، انہوں نے اسے ایک اور سند کے ساتھ بھی نقل کیا ہے جو سند ضعیف ہے ، اور اس کی مانند ایک روایت قتادہ کے حوالے سے بھی نقل کی ہے ، جس کی سند عمدہ ہے ، اس کی مانند روایت انہوں نے سعید بن جبیر کے حوالے سے نقل کی ہے ، تا ہم اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : کیا تم یہ بات پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کر دے ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر تم معاف کرو اور درگزر سے کام لو ! تو انہوں نے عرض کی : میں نے معاف کیا اور درگزر سے کام لیا ، اب میں آج کے بعد ، اُس کے ساتھ کی جانے والی کوئی بھلائی نہیں روکوں گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔