حدیث نمبر: 11209
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ يَعْنِي تَزْيِينَ الشَّيْطَانِ وَمَنْ يَتَّبِعْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ يَعْنِي تَزْيِينَ الشَّيْطَانِ فَإِنَّهُ يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ يَعْنِي بِالْمَعَاصِي وَالْمُنْكَرِ مَا لَا يُعْرَفُ مِثْلُ مَا قِيلَ لِعَائِشَةَ وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ يَعْنِي نِعْمَتَهُ مَا زَكَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ أَبَدًا مَا صَلُحَ مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ أَبَدًا وَلَكِنَّ اللَّهَ يُزَكِّي مَنْ يَشَاءُ يَعْنِي يُصْلِحُ مَنْ يَشَاءُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اے ایمان والو ! تم شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو “ اس سے مراد یہ ہے کہ شیطان نے جس چیز کو آراستہ کیا ہے ( اس کی پیروی نہ کرو ) ۔ ” اور جو شخص شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرے گا “ یعنی شیطان کی آراستہ کی ہوئی چیز کی پیروی کرے گا ۔ ” تو بے شک وہ برائی کا حکم دیتا ہے “ اس سے مراد یہ ہے کہ گناہوں کا حکم دیتا ہے ” اور منکر کا “ یعنی جسے معروف نہیں کہا: جا سکتا ، جس طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں ایک بات کہی گئی ۔ ” اور اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اُس کی رحمت تم پر نہ ہو “ یعنی اُس کی نعمت نہ ہو ۔ ” تو تم میں سے کبھی کوئی پاک نہ ہو “ یعنی تم میں سے کوئی شخص کبھی کسی کے حوالے سے نیک نہ ہو ۔ ” لیکن اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے پاک کر دیتا ہے “ یعنی جسے چاہتا ہے ، بہتر کر دیتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11209
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف