حدیث نمبر: 11207
وَبِسَنَدِهِ عَنْهُ إِنَّ الَّذِينَ يَعْنِي بَيْنَ قَذْفِ عَائِشَةَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ يَعْنِي أَنْ تَفْشُوَ وَيَظْهَرَ الزِّنَا فِي الَّذِينَ آمَنُوا يَعْنِي صَفْوَانَ وَعَائِشَةَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ يَعْنِي وَجِيعٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ فَكَانَ عَذَابُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ فِي الدُّنْيَا الْجَلْدَ وَفِي الْآخِرَةِ عَذَابَ النَّارِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ . وَرَوَى نَحْوَ هَذَا عَنْ قَتَادَةَ بِإِسْنَادٍ جَيِّدٍ ، وَرَوَى بَعْضَهُ عَنْ مُجَاهِدٍ بِإِسْنَادَيْنِ رِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

اسی سند کے ساتھ ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : ” بے شک وہ لوگ “ ۔ یعنی جنہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگایا ” وہ یہ پسند کرتے ہیں کہ برائی پھلیے “ ۔ یعنی وہ یہ چاہتے ہیں کہ زنا پھیلے اور ظاہر ہو ” ان لوگوں میں جو ایمان لائے “ ۔ یعنی سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ” ان لوگوں کے لئے دردناک عذاب ہے “ ۔ یعنی تکلیف دہ عذاب ہے ۔ ” دنیا میں اور آخرت میں تو عبداللہ بن ابی کا دنیا میں عذاب یہ ہے کہ اسے کوڑے لگائے گئے اور آخرت میں یہ عذاب ہو گا کہ اسے جہنم میں عذاب دیا جائے گا ” اور اللہ تعالیٰ علم رکھتا ہے ، اور تم علم نہیں رکھتے ہو “ ۔ اس کی مانند روایت قتادہ کے حوالے سے عمدہ سند کے ساتھ نقل کی گئی ہے ۔ انہوں نے اس کا کچھ حصہ مجاہد کے حوالے سے دو اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے ، اور ان دونوں روایات میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11207
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (146/23)»