مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
تَفْسِيرُ قِصَّةِ الْإِفْكِ باب: واقعہ افک کی تفسیر
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ لَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ يَعْنِي الْقَذْفَ [ أَلَا " قُلْتُمْ مَا يَكُونُ لَنَا " ] قُلْتُمْ مَا يَنْبَغِي لَنَا أَنْ نَتَكَلَّمَ بِهَذَا يَعْنِي الْقَذْفَ وَلَمْ تَرَ أَعْيُنُنَا سُبْحَانَكَ هَذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ يَعْنِي أَلَا قُلْتُمْ مِثْلَ مَا قَالَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ الْأَنْصَارِيُّ ، وَذَلِكَ أَنَّ سَعْدًا لَمَّا سَمِعَ قَوْلَ مَنْ قَالَ فِي أَمْرِ عَائِشَةَ قَالَ : سُبْحَانَكَ هَذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ ، وَالْبُهْتَانُ : الَّذِي يَبْهَتُ فَيَقُولُ مَا لَمْ يَكُنْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے اسے سنا “ ۔ یعنی جھوٹے الزام کو سنا ، تو تم نے یہ کیوں نہیں کہا: ” کہ تم کہتے ہمیں یہ حق نہیں ہے “ ۔ یعنی تم یہ کہتے کہ ہمارے لئے یہ مناسب نہیں ہے : ” کہ ہم اس کے بارے میں بات کریں “ ۔ یعنی زنا کے الزام کے بارے میں بات کریں جب کہ ہماری آنکھوں نے دیکھا بھی کچھ نہیں ہے : ” تو ہر عیب سے پاک ہے یہ بڑا بہتان ہے “ ۔ اس سے مراد یہ ہے : تم لوگوں نے اس طرح کیوں نہیں کہا: جس طرح سعد بن معاذ انصاری نے کہا: تھا ، اس کی صورت یوں ہوئی کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے جب یہ قول سنا ، جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں کسی نے کہا: تھا ، تو انہوں نے کہا: تو ہر عیب سے پاک ہے بے شک یہ بڑا بہتان ہے ۔ ( راوی کہتے ہیں : ) بہتان اس چیز کو کہتے ہیں : جسے سننے والا مبہوت ہو جائے اور یہ کہے : یہ نہیں ہو سکتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔