حدیث نمبر: 11204
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ إِذْ تَلَقَّوْنَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ وَذَلِكَ حِينَ خَاضُوا فِي أَمْرِ عَائِشَةَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ : سَمِعْتُ فُلَانًا يَقُولُ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ : تَلَقَّوْنَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ يَقُولُ : يَرْوِيهِ بَعْضُكُمْ عَنْ بَعْضٍ ، سَمِعْتُ مِنْ فُلَانٍ وَسَمِعْتُ مِنْ فُلَانٍ وَتَقُولُونَ بِأَفْوَاهِكُمْ يَعْنِي بِأَلْسِنَتِكُمْ ، يَعْنِي مَنْ قَذَفَهَا مَا لَيْسَ لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ يَعْنِي مِنْ غَيْرِ أَنْ تَعْلَمُوا أَنَّ الَّذِي قُلْتُمْ مِنَ الْقَذْفِ حَقٌّ وَتَحْسَبُونَهُ هَيِّنًا يَعْنِي وَتَحْسَبُونَ أَنَّ الْقَذْفَ ذَنْبٌ هَيِّنٌ وَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمٌ يَعْنِي فِي الزُّورِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ . وَرَوَاهُ بِاخْتِصَارٍ عَنْ مُجَاهِدٍ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” جب تم اپنی زبانوں کے ذریعے اسے پھیلا رہے تھے “ ۔ یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں معاملہ پھیل گیا تھا اور کوئی شخص یہ کہتا تھا : میں نے فلاں کو یہ ، یہ بات ذکر کرتے ہوئے سنا ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” کہ جب تم اپنی زبانوں کے ذریعے اسے پھیلا رہے تھے “ ۔ اس سے مراد یہ ہے : تم ایک دوسرے کو اسے روایت کر رہے تھے کہ میں نے فلاں سے سنا ہے ، اور میں نے فلاں سے سنا ہے ، اور تم اپنے منہ کے ذریعے کہہ رہے تھے “ ۔ یعنی اپنی زبانوں کے ذریعے یہ کہہ رہے تھے ، یعنی وہ شخص جس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگایا ” وہ چیز جس کے بارے میں تمہیں علم نہیں ہے “ ۔ اس سے مراد یہ ہے : تم لوگ یہ نہیں جانتے تھے تم لوگ جو الزام لگا رہے ہو وہ حق ہے ؟ اور تم لوگ اسے ہلکا گمان کر رہے تھے “ ۔ اس سے مراد یہ ہے : تم لوگ یہ سمجھتے تھے جھوٹا الزام لگانا معمولی گناہ ہے ” اور وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑا ہے “ ۔ یعنی جھوٹا الزام لگانا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ مجاہد کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11204
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (142/23)»