حدیث نمبر: 11200
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ لَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ قَذَفَ عَائِشَةَ وَصَفْوَانَ هَلَّا كَذَّبْتُمْ بِهِ هَلَّا ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ لِأَنَّ مِنْهُمْ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ بِأَنْفُسِهِمْ خَيْرًا أَلَا ظَنَّ بَعْضُهُمْ بِبَعْضٍ خَيْرًا بِأَنَّهُمْ لَمْ يَرَوْا هَذَا وَقَالُوا هَذَا إِفْكٌ أَلَا قَالُوا : هَذَا الْقَذْفُ كَذِبٌ بَيِّنٌ . ¤
محمد محی الدین

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے اسے سنا “ ۔ یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ پر لگنے والے الزام کو سنا ، تو تم نے اسے جھٹلایا کیوں نہیں ؟ ایسا کیوں نہ ہوا کہ مومن مرد اور مومن خواتین یہ گمان کرتے ۔ ان میں ایک سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہ ہیں ” ان لوگوں کے بارے میں بھلائی کا “ ۔ اس سے مراد یہ ہے : انہوں نے ایک دوسرے کے بارے میں بھلائی کا گمان کیوں نہیں کیا کہ جب انہوں نے یہ چیز نہیں دیکھی تھی اور یہ کیوں نہیں کہا: کہ وہ یہ کہتے : یہ جھوٹ ہے کہ یعنی انہوں نے یہ کیوں نہیں کہا: یہ جھوٹا الزام ہے ، اور واضح جھوٹ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11200
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (139/23)»