مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
تَفْسِيرُ قِصَّةِ الْإِفْكِ باب: واقعہ افک کی تفسیر
حدیث نمبر: 11199
وَعَنْ قَتَادَةَ فِي قَوْلِهِ لَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ كَذَّبْتُمْ وَقُلْتُمْ : هَذَا كَذِبٌ بَيِّنٌ ، وَلَعَمْرِي أَنْ تَكْذِبَ عَلَى أَخِيكَ بِالشَّرِّ إِذْ سَمِعْتَهُ خَيْرٌ لَكَ وَأَسْلَمُ مِنْ أَنْ تُذِيعَهُ وَتُفْشِيَهُ وَتُصَدِّقَ بِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤محمد محی الدین
قتادہ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کیا ہے ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم لوگوں نے اسے سنا “ ۔ کہ تم اس کو جھٹلاتے اور تم یہ کہتے کہ یہ واضح جھوٹ ہے مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے اپنے بھائی کے بارے میں برائی کو جھوٹا قرار دینا جب تم اسے سنو یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے ، اور زیادہ سلامتی کا باعث ہے بہ نسبت اس کے کہ تم اسے پھیلاؤ اور نمایاں کرو اور اس کی تصدیق کرو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند عمدہ ہے ۔