عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَجْلِسًا فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ، فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاضِعًا كَفَّيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، حَدِّثْنِي عَنِ الْإِسْلَامِ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْإِسْلَامُ أَنْ تُسْلِمَ وَجْهَكَ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَأَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " ، قَالَ : فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَقَدْ أَسْلَمْتُ ؟ قَالَ : " فَإِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ فَقَدْ أَسْلَمْتَ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدِّثْنِي عَنِ الْإِيمَانِ قَالَ : " الْإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَالْمَوْتِ وَالْحَيَاةِ بَعْدَ الْمَوْتِ ، وَتُؤْمِنَ بِالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَالْحِسَابِ وَالْمِيزَانِ ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ كُلِّهِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ " . قَالَ : فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَقَدْ آمَنْتُ ؟ قَالَ : " فَإِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ فَقَدْ آمَنْتَ " قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدِّثْنِي : مَا الْإِحْسَانُ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْإِحْسَانُ أَنْ تَعْمَلَ لِلَّهِ كَأَنَّكَ تَرَاهُ ، فَإِنْ لَا تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدِّثْنِي : مَتَى السَّاعَةُ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سُبْحَانَ اللَّهِ ! خَمْسٌ مِنَ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ : إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ ، وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ ، وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ ، وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا ، وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ ، إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ . وَلَكِنْ إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُكَ بِمَعَالِمَ لَهَا دُونَ ذَلِكَ " . قَالَ : أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَحَدِّثْنِي ، قَالَ : قَالَ : " إِذَا رَأَيْتَ الْأَمَةَ وَلَدَتْ رَبَّتَهَا - أَوْ رَبَّهَا - وَرَأَيْتَ أَصْحَابَ الْبُنْيَانِ يَتَطَاوَلُونَ بِالْبُنْيَانِ ، وَرَأَيْتَ الْحُفَاةَ الْجِيَاعَ الْعَالَةَ كَانُوا رُءُوسَ النَّاسِ - فَذَلِكَ مِنْ مَعَالِمِ السَّاعَةِ وَمِنْ أَشْرَاطِهَا " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَنْ أَصْحَابُ الْبُنْيَانِ الْحُفَاةُ الْجِيَاعُ الْعَالَةُ ؟ قَالَ : " الْعَرِيبُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّ فِي الْبَزَّارِ : أَنَّ جِبْرِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي هَيْئَةِ رَجُلٍ شَاحِبٍ مُسَافِرٍ . وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک محفل میں تشریف فرما تھے ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گئے ، انہوں نے اپنی دونوں ہتھیلیاں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں پر رکھ دیں ، اور بولے : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسلام یہ ہے کہ تم اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دو ، اور تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اُس کا کوئی شریک نہیں ہے ، اور بے شک سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں ، انہوں نے دریافت کیا : جب میں ایسا کر لوں گا ، تو میں مسلمان ہو جاؤں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم ایسا کرو گے ، تو تم مسلمان ہو گے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایمان یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ آخرت کے دن ، فرشتوں ، کتاب ، انبیاء ، موت ، موت کے بعد کی زندگی پر ایمان رکھو ، اور تم جنت ، جہنم ، حساب اور میزان پر ایمان رکھو ، اور تم ہر قسم کی اچھی یا بری تقدیر پر ایمان رکھو ، انہوں نے عرض کی : جب میں ایسا کروں گا ، تو کیا میں مؤمن ہوؤں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم ایسا کرو گے تو تم مؤمن ہو گے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے بتائیے ، احسان سے کیا مراد ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : احسان سے مراد یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے لئے یوں عمل کرو ! گویا تم اسے دیکھ رہے ہو ، اور اگر تم اُسے نہیں دیکھ رہے ہو ، تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے بتائیے قیامت کب آئے گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سبحان اللہ ! غیب سے تعلق رکھنے والی پانچ چیزیں ایسی ہیں ، جن کا علم ، صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ( اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” بے شک قیامت کا علم ، اللہ تعالی ہی کے پاس ہے ، وہ بارش نازل کرتا ہے ، اور وہ جانتا ہے کہ جو رحم میں ہے ، اور کوئی یہ نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا اور کوئی یہ نہیں جانتا کہ وہ کون سی جگہ پر مرے گا ، بے شک اللہ تعالیٰ علم رکھنے والا ، خبر رکھنے والا ہے “ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ) لیکن اگر تم چاہو ، تو میں اُس سے پہلے رونما ہونے والی کچھ نشانیاں تمہیں بتا دیتا ہوں ، انہوں نے کہا: ٹھیک ہے ، یا رسول اللہ ! آپ مجھے بتا دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم کنیز کو دیکھو کہ اُس نے اپنی مالکن کو ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ تھے : ) اپنے آقا کو جنم دیا ہے ، یا تم عمارتیں تعمیر کرنے والوں کو دیکھو ، کہ وہ ایک دوسرے کے مقابلے میں ، طویل عمارتیں بنا رہے ہیں اور تم دیکھو کہ جن لوگوں کے پاس جوتے بھی نہیں تھے ، وہ بھوکے تھے ، تنگدست تھے ، وہ لوگوں کے حکمران بن گئے ہیں ، تو یہ امور قیامت ( قریب آنے ) کی علامات اور نشانیوں میں سے ہوں گے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول الله ! عمارتوں والے وہ لوگ ، جن کے پاؤں میں جوتے بھی نہ ہوں ، اور جو بھوکے ہوں ، اور تنگ دست ہوں ، ان سے مراد کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عریب ( تنگدست )
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم امام بزار کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ، ایک نوجوان ضرورت مند مسافر شخص کی شکل میں حاضر ہوئے “ ۔ امام أحمد کی سند میں ، ایک راوی شہر بن حوشب ہے ۔