حدیث نمبر: 113
وَعَنِ ابْنِ عَامِرٍ - أَوْ أَبِي عَامِرٍ أَوْ أَبِي مَالِكٍ - : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ أَصْحَابُهُ جَاءَهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فِي غَيْرِ صُورَتِهِ يَحْسَبُهُ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَسَلَّمَ ، فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ ، ثُمَّ وَضَعَ جِبْرِيلُ يَدَهُ عَلَى رُكْبَتَيِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الْإِسْلَامُ ؟ قَالَ : " أَنْ تُسْلِمَ وَجْهَكَ لِلَّهِ ، وَتَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ " . قَالَ : فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَقَدْ أَسْلَمْتُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : ثُمَّ قَالَ : مَا الْإِيمَانُ ؟ قَالَ : " أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَالْمَوْتِ وَالْحَيَاةِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَالْحِسَابِ وَالْمِيزَانِ وَالْقَدَرِ كُلِّهِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ " . قَالَ : فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ قَدْ آمَنْتُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، ثُمَّ قَالَ مَا الْإِحْسَانُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ ، فَإِنْ كُنْتَ لَا تَرَاهُ فَهُوَ يَرَاكَ " . قَالَ : فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَقَدْ أَحْسَنْتُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . وَنَسْمَعُ رَجْعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا نَرَى الَّذِي يُكَلِّمُهُ وَلَا نَسْمَعُ كَلَامَهُ . قَالَ : فَمَتَى السَّاعَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سُبْحَانَ اللَّهِ ! خَمْسٌ مِنَ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا اللَّهُ : إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ ، وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا ، وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ ، إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ . وَلَكِنْ إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُكَ بِعَلَامَتَيْنِ تَكُونَانِ قَبْلَهَا " قَالَ : حَدِّثْنِي قَالَ : " إِذَا رَأَيْتَ الْأَمَةَ تَلِدُ رَبَّهَا ، وَيَطُولُ أَهْلُ الْبُنْيَانِ بِالْبُنْيَانِ ، وَعَادَ الْعَالَةُ الْحُفَاةُ رُءُوسَ النَّاسِ " ، قَالَ : وَمَنْ أُولَئِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْعَرِيبُ " . قَالَ : ثُمَّ وَلَّى ، قَالَ : فَلَمَّا لَمْ نَرَ طَرِيقَهُ قَالَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ ! هَذَا جِبْرِيلُ جَاءَ لِيُعَلِّمَ النَّاسَ دِينَهُمْ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا جَاءَنِي قَطُّ إِلَّا وَأَنَا أَعْرِفُهُ إِلَّا أَنْ تَكُونَ هَذِهِ الْمَرَّةُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابن عامر ، یا شاید سیدنا ابوعامر ، یا شاید سیدنا ابومالک کے حوالے سے یہ روایت منقول ہے : ” ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک محفل میں تشریف فرما تھے ، جس میں آپ کے اصحاب بھی موجود تھے ، اس دوران سیدنا جبرائیل علیہ السلام انسانی شکل میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ( دیکھنے والا ) انہیں ایک مسلمان محسوس کرتا ، انہوں نے سلام کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کا جواب دیا ، پھر سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے اپنا ہاتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں پر رکھا اور عرض کی : یا رسول اللہ ! اسلام سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ کہ تم اپنا آپ ، اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دو ، اور تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اُس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، اور تم نماز قائم کرو ، اور تم زکوۃ ادا کرو ، انہوں نے عرض کی : جب میں ایسا کر لوں گا تو میں مسلمان ہو جاؤں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! انہوں نے دریافت کیا : ایمان سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ کہ تم اللہ تعالیٰ ، آخرت کے دن ، فرشتوں ، کتاب ، انبیاء ، موت ، موت کے بعد کی زندگی ، جنت ، جہنم ، کتاب ، میزان ، اور اچھی یا بری ، ہر قسم کی تقدیر پر ایمان رکھو ! انہوں نے دریافت کیا : جب میں ایسا کر لوں گا ، تو کیا میں مؤمن شمار ہوؤں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! پھر انہوں نے سوال کیا : یا رسول اللہ ! احسان سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کی یوں عبادت کرو ، گویا تم اُسے دیکھ رہے ہو ، اور اگر تم اسے نہیں دیکھ سکتے ، تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے ، انہوں نے دریافت کیا : جب میں ایسا کر لوں گا ، تو کیا میں احسان کرنے والا شمار ہوؤں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! راوی بیان کرتے ہیں : ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب سن رہے تھے ، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ، جو شخص بات کر رہا تھا ، ہم اسے نہیں دیکھ رہے تھے ، اور نہ ہی اُس کا کلام سن رہے تھے ، اُس نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! قیامت کب قائم ہو گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سبحان اللہ ! غیب سے تعلق رکھنے والی پانچ چیزیں ایسی ہیں ، جن کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ( جن کا ذکر قرآن مجید میں ، ان الفاظ میں ہے : ) ” بے شک قیامت کا علم ، اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے ، اور وہ بارش نازل کرتا ہے ، اور رحم میں جو ہے ، وہ اُس کو جانتا ہے ، کوئی یہ نہیں جانتا ، کہ وہ کل کیا کمائے گا ؟ اور کوئی یہ نہیں جانتا کہ وہ کون سی سرزمین پر مرے گا ؟ بیشک اللہ تعالیٰ علم رکھنے والا ، خبر رکھنے والا ہے “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لیکن اگر تم چاہو ، تو میں تمہیں اس کی علامات کے بارے میں بتا دیتا ہوں ، جو قیامت سے پہلے رونما ہوں گی ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: آپ مجھے بتا دیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم دیکھو کہ کنیز نے اپنے آقا کو جنم دیا ہے ، اور عمارتیں بنانے والے ، بلند عمارتیں تعمیر کر رہے ہیں اور ایسے تنگ دست لوگ ، جن کے پاؤں میں جوتے بھی نہیں ہوتے تھے ، وہ لوگوں کے حکمران بن گئے ہیں ، ( تو یہ قیامت قریب آ جانے کی بڑی نشانیاں ہوں گی ) انہوں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! وہ کون لوگ ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عریب ( تنگدست )
راوی بیان کرتے ہیں : پھر وہ شخص چلا گیا ، ہم نے اُس کا راستہ ( یعنی اس کو جاتے ہوئے ) نہیں دیکھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”سبحان اللہ ! یہ جبرائیل تھے جو لوگوں کو اُن کے دین کی تعلیم دینے کے لئے آئے تھے ، اُس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے ، یہ جب بھی میرے پاس آئے ، تو میں نے انہیں پہچان لیا ، البتہ اس مرتبہ کا معاملہ مختلف ہے “۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 113
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 129/4164 اورده المؤلف فى زوائد المسند 32»