حدیث نمبر: 111
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ لِلْإِسْلَامِ ضَوْءًا وَعَلَامَاتٍ كَمَنَارِ الطَّرِيقِ . وَرَأْسُهُ وَجِمَاعُهُ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ ، وَتَمَامُ الْوُضُوءِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اسلام کی مخصوص روشنی اور علامات ہیں ، جس طرح راستے میں مینار ہوتا ہے ، اس کا سرا اور مجموعہ اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں اور نماز قائم کرنا ، زکوٰۃ دینا اور مکمل وضو کرنا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 111
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح