حدیث نمبر: 11197
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ : وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ يَعْنِي عِظَمَهُ مِنْهُمْ يَعْنِي الْقَذْفَةَ ، وَهُوَ ابْنُ أُبَيٍّ رَأْسُ الْمُنَافِقِينَ ، وَهُوَ الَّذِي قَالَ : مَا بَرِئَتْ مِنْهُ وَمَا بَرِئَ مِنْهَا لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ وَفِي هَذِهِ الْآيَةِ عِبْرَةٌ ، فَجَمِيعُ الْمُسْلِمِينَ إِذَا كَانَتْ فِيهِمْ خَطِيئَةٌ فَمَنْ أَعَانَ عَلَيْهَا بِفِعْلٍ أَوْ كَلَامٍ أَوْ عَرَّضَ بِهَا أَوْ أَعْجَبَهُ ذَلِكَ أَوْ رَضِيَهُ فَهُوَ فِي تِلْكَ الْخَطِيئَةِ عَلَى قَدْرِ مَا كَانَ مِنْهُمْ ، وَإِذَا كَانَتْ خَطِيئَةٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ فَمَنْ شَهِدَ وَكَرِهَ فَهُوَ مِثْلُ الْغَائِبِ ، وَمَنْ غَابَ وَرَضِيَ فَهُوَ مِثْلُ شَاهِدٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ وَقَدْ يُحَسَّنُ حَدِيثُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں : ” اور جو شخص اس کے بڑے حصے کا نگران بنا “ ۔ اس سے مراد یہ ہے : اس کے عظیم حصے کا ۔ ” ان میں سے ایک “ ۔ یعنی الزام لگانے والوں میں سے ایک یہ ابن ابی ہے جو منافقین کا سردار ہے ، اور یہی وہ شخص ہے جس نے یہ کہا: تھا کہ وہ خاتون اس مرد سے لاتعلق نہیں ہے ، اور وہ مرد اس خاتون سے لا تعلق نہیں ہے ۔ ” اس کے لئے عظیم عذاب ہو گا “ ۔ اس آیت میں مسلمانوں کے لئے ایک عبرت آموز سبق ہے کہ جب مسلمانوں کے درمیان کوئی غلطی رونما ہو تو جو شخص فعل یا کلام یا اس کو پیش کرنے یا اس کو پسند کرنے یا اس سے راضی ہونے کے حوالے سے اس غلطی کے بارے میں مدد کرے گا ، تو وہ اس غلطی میں شامل شمار ہو گا ان لوگوں کے حساب سے جو اس غلطی میں حصہ لے رہے ہیں ، اور جب مسلمانوں کے درمیان کوئی غلطی آ جائے تو جو شخص وہاں موجود ہو لیکن اس کو ناپسند کرے تو وہ غیر موجود شخص کی مانند ہو گا اور جو شخص غیر موجود ہونے کے باوجود اس سے راضی ہو ، تو وہ موجود کی مانند ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا گیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11197
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (138/23)»