مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : وَكَانَ تَحْتَهُ كَنْزٌ لَهُمَا . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور اس کے نیچے ان دونوں کا خزانہ تھا “
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَفَعَهُ قَالَ : " الْكَنْزُ الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ لَوْحٌ مِنْ ذَهَبٍ مُصْمَتٍ ، عَجِبْتُ لِمَنْ أَيْقَنَ بِالْقَدَرِ ثُمَّ نَصَبَ ، وَعَجِبْتُ لِمَنْ ذَكَرَ النَّارَ ثُمَّ ضَحِكَ ، وَعَجِبْتُ لِمَنْ ذَكَرَ الْمَوْتَ ثُمَّ غَفَلَ . لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقِ بِشْرِ بْنِ الْمُنْذِرِ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَحْصَبِيِّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” وہ خزانہ جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے وہ خالص سونے کی ایک لوح تھی جس میں یہ تحریر تھا کہ مجھے اس شخص پر حیرانگی ہوتی ہے جو تقدیر پر یقین رکھتا ہے ، اور پھر پریشان ہوتا ہے مجھے اس شخص پر حیرانگی ہوتی ہے جو جہنم کو یاد کرتا ہے ، اور پھر بھی ہنستا ہے مجھے اس شخص پر حیرانگی ہوتی ہے جو موت کو یاد کرتا ہے اور پھر غافل ہو جاتا ہے اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں “ ۔
یہ روایت امام بزار نے بشر بن منذر کے حوالے سے حارث بن عبداللہ یحصبی سے نقل کی ہے میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔