مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : مَا يَعْلَمُهُمْ إِلَّا قَلِيلٌ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ ان لوگوں کے بارے میں صرف تھوڑے لوگ جانتے ہیں “
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - : مَا يَعْلَمُهُمْ إِلَّا قَلِيلٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَنَا مِنْ أُولَئِكَ الْقَلِيلِ ، مَكْسِمِلِينَا وَمِلِيخَا وَهُوَ الْمَبْعُوثُ بِالْوَرِقِ إِلَى الْمَدِينَةِ ، وَمَرْطُونُسُ وَيَثْبُونُسُ وَدِرْدُونُسُ وَكَفَاسْطِيطُوسُ وَمِيطْنُوسِيُوسُ وَهُوَ الرَّاعِي ، وَالْكَلْبُ اسْمُهُ قِطْمِيرُ الْكُرْدِيِّ ، وَفَرَقٌ الْقِبْطِيِّ [ إِلَّا لَطَنَ فَرْقٌ الْقِبْطِيِّ ] . ¤ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ : قَالَ أَبِي : بَلَغَنِي أَنَّهُ مَنْ كَتَبَ هَذِهِ الْأَسْمَاءَ فِي شَيْءٍ وَطَرَحَهُ فِي حَرِيقٍ سَكَنَ الْحَرِيقُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ أَبِي رَوْقٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” ان کے بارے میں صرف تھوڑے لوگ جانتے ہیں “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : میں ان تھوڑے لوگوں میں سے ایک ہوں ان ( یعنی اصحاب کہف کے نام یہ ہیں : ) مکسملینا ، ملیخا یہ وہ صاحب ہیں جنہیں چاندی دے کر شہر کی طرف بھیجا گیا تھا ، مرطونس یثبونس ، دردونس ، کفا سطیطوس ، میطنو سیوس یہ چرواہا ہے ، اور کتا ، جس کا نام قطمیر کردی تھا ، اور فرق قبطی تھا ، البتہ فرق قبطی مشہور ہوا ۔ ابوعبدالرحمن کہتے ہیں : میرے والد نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ جو شخص کسی چیز میں یہ اسماء تحریر کر لے اور پھر اسے جلتی ہوئی جگہ پر پھینک دے ، تو وہ جلتی ہوئی آگ بجھ جائے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن ابوروق ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔