کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور اس کے نیچے ان دونوں کا خزانہ تھا “
حدیث نمبر: 11151
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَفَعَهُ قَالَ : " الْكَنْزُ الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ لَوْحٌ مِنْ ذَهَبٍ مُصْمَتٍ ، عَجِبْتُ لِمَنْ أَيْقَنَ بِالْقَدَرِ ثُمَّ نَصَبَ ، وَعَجِبْتُ لِمَنْ ذَكَرَ النَّارَ ثُمَّ ضَحِكَ ، وَعَجِبْتُ لِمَنْ ذَكَرَ الْمَوْتَ ثُمَّ غَفَلَ . لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقِ بِشْرِ بْنِ الْمُنْذِرِ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَحْصَبِيِّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” وہ خزانہ جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے وہ خالص سونے کی ایک لوح تھی جس میں یہ تحریر تھا کہ مجھے اس شخص پر حیرانگی ہوتی ہے جو تقدیر پر یقین رکھتا ہے ، اور پھر پریشان ہوتا ہے مجھے اس شخص پر حیرانگی ہوتی ہے جو جہنم کو یاد کرتا ہے ، اور پھر بھی ہنستا ہے مجھے اس شخص پر حیرانگی ہوتی ہے جو موت کو یاد کرتا ہے اور پھر غافل ہو جاتا ہے اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں “ ۔
یہ روایت امام بزار نے بشر بن منذر کے حوالے سے حارث بن عبداللہ یحصبی سے نقل کی ہے میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11151
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2229)»
حدیث نمبر: 11152
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : وَكَانَ تَحْتَهُ كَنْزٌ لَهُمَا قَالَ : قَالَ : أُحِلِّتْ لَهُمُ الْكُنُوزُ وَحُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الْغَنَائِمُ ، وَأُحِلَّتْ لَنَا الْغَنَائِمُ وَحُرِّمَتْ عَلَيْنَا الْكُنُوزُ . قُلْتُ : رَوَى لَهُ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثًا غَيْرَ هَذَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور اس کے نیچے ان دونوں کا خزانہ تھا “ ۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ان لوگوں کے لئے خزانہ جمع کرنا حلال تھا اور ان کے لئے مال غنیمت حرام قرار دیا گیا تھا ہمارے لئے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا ہے ، اور ہم پر خزانہ اکٹھا کرنے کو حرام قرار دیا گیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے ان صحابی کے حوالے سے ایک حدیث نقل کی ہے جو اس کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن عبداللہ بن ابوفروہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11152
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً