مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : وَكَانَ تَحْتَهُ كَنْزٌ لَهُمَا . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور اس کے نیچے ان دونوں کا خزانہ تھا “
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : وَكَانَ تَحْتَهُ كَنْزٌ لَهُمَا قَالَ : قَالَ : أُحِلِّتْ لَهُمُ الْكُنُوزُ وَحُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الْغَنَائِمُ ، وَأُحِلَّتْ لَنَا الْغَنَائِمُ وَحُرِّمَتْ عَلَيْنَا الْكُنُوزُ . قُلْتُ : رَوَى لَهُ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثًا غَيْرَ هَذَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور اس کے نیچے ان دونوں کا خزانہ تھا “ ۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ان لوگوں کے لئے خزانہ جمع کرنا حلال تھا اور ان کے لئے مال غنیمت حرام قرار دیا گیا تھا ہمارے لئے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا ہے ، اور ہم پر خزانہ اکٹھا کرنے کو حرام قرار دیا گیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے ان صحابی کے حوالے سے ایک حدیث نقل کی ہے جو اس کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن عبداللہ بن ابوفروہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔