حدیث نمبر: 11114
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الْمُسْتَهْزِئِينَ كَانُوا ثَمَانِيَةً : الْوَلِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ وَأَبُو زَمْعَةَ وَهُوَ الْأَسْوَدُ بْنُ الْمُطَّلِبِ وَالْأَسْوَدُ بْنُ عَبْدِ يَغُوثَ وَالْعَاصِي بْنُ وَائِلٍ . قَالَ : كُلُّهُمْ قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ [ بِمَوْتٍ ] ، أَوْ مَرِضَ ، وَالْحَارِثُ وَهُوَ مِنَ الْعَيَاطِلِ . قُلْتُ : هَكَذَا وَجَدْتُهُ فِي النُّسْخَةِ الَّتِي كَتَبْتُ مِنْهَا ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّهُ مُثَبَّحٌ ، وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ سَقَطَ بَعْضُهُ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : مذاق اڑانے والے لوگ آٹھ تھے ولید بن مغیرہ ، ابوزمعہ یہ اسود بن مطلب ہے ، اسود بن عبدیغوث اور عاص بن وائل ۔ وہ بیان کرتے ہیں : یہ سب لوگ غزوہ بدر کے موقع پر موت یا بیماری کے عالم میں قتل ہوئے اور حارث بن قیس یہ عیاطل میں سے تھا ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اپنے پاس موجود نسخے میں ، میں نے
یہ روایت اسی طرح پائی ہے جس نسخے سے میں نے اسے نقل کیا ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ یہ بے ڈول ( یا غیر مناسب ) ہے ، اور بظاہر یہ لگتا ہے کہ اس روایت کا کچھ حصہ ساقط ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11114
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11215)»