مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ مُصْبِحِينَ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ صبح کے وقت زبردست کڑک آواز نے انہیں پکڑ میں لے لیا “
حدیث نمبر: 11115
عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا هَلَكَ قَوْمُ لُوطٍ إِلَّا فِي الْأَذَانِ ، وَلَا تَقُومُ الْقِيَامَةُ إِلَّا فِي الْأَذَانِ " . قَالَ الطَّبَرَانِيُّ : مَعْنَاهُ عِنْدِي - وَاللَّهُ أَعْلَمُ - فِي وَقْتِ أَذَانِ الْفَجْرِ ، هُوَ وَقْتُ الِاسْتِغْفَارِ وَالدُّعَاءِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سیدنا لوط علیہ السلام کی قوم صرف اذان کی بدولت ہلاکت کا شکار ہوئی تھی اور قیامت بھی صرف اذان کی بدولت قائم ہو گی “ امام طبرانی بیان کرتے ہیں : ویسے اللہ بہتر جانتا ہے ، لیکن میرے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے : فجر کی اذان کے وقت ایسا ہو گا ، یہ استغفار اور دعا کا وقت ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔