حدیث نمبر: 11113
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ قَالَ : الْمُسْتَهْزِئِينَ : الْوَلِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ وَالْأَسْوَدُ بْنُ عَبْدِ يَغُوثَ وَالْأَسْوَدُ بْنُ الْمُطَّلِبِ أَبُو زَمْعَةَ مِنْ بَنِي أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى وَالْحَرْثُ بْنُ عَيْطَلٍ السَّهْمِيُّ وَالْعَاصِي بْنُ وَائِلٍ السَّهْمِيُّ ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَشَكَاهُمْ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَرَاهُ الْوَلِيدَ بْنَ الْمُغِيرَةِ ، فَأَشَارَ إِلَى أَبْجَلِهِ ، فَقَالَ : مَا صَنَعْتَ شَيْئًا ؟ فَقَالَ : أَكْفَيْتُكَهُ . ثُمَّ أَرَاهُ الْحَرْثَ بْنَ عَيْطَلٍ السَّهْمِيَّ فَأَوْمَأَ إِلَى بَطْنِهِ ، فَقَالَ : مَا صَنَعْتَ شَيْئًا ؟ فَقَالَ : أَكْفَيْتُكَهُ . ثُمَّ أَرَاهُ الْعَاصِي بْنَ وَائِلٍ فَأَوْمَأَ إِلَى أَخْمَصِهِ ، فَقَالَ : مَا صَنَعْتَ شَيْئًا ؟ فَقَالَ : أَكْفَيْتُكَهُ . فَأَمَّا الْوَلِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ فَمَرَّ بِرَجُلٍ مِنْ خُزَاعَةَ وَهُوَ يَرِيشُ نَبْلًا لَهُ ، فَأَصَابَ أَبْجَلَهُ فَقَطَعَهَا . وَأَمَّا الْأَسْوَدُ بْنُ الْمُطَّلِبِ فَعَمِيَ ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ : عَمِيَ هَكَذَا ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ : نَزَلَ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَجَعَلَ يَقُولُ : يَا بَنِيَّ أَلَا تَدْفَعُونَ عَنِّي ؟ قَدْ هَلَكْتُ ، أُطْعَنُ بِالشَّوْكِ فِي عَيْنِي ، فَجَعَلُوا يَقُولُونَ : مَا نَرَى شَيْئًا ؟ فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى عَمِيَتْ عَيْنَاهُ . وَأَمَّا الْأَسْوَدُ بْنُ عَبْدِ يَغُوثَ فَخَرَجَتْ فِي رَأْسِهِ قُرُوحٌ فَمَاتَ مِنْهَا . وَأَمَّا الْحَرْثُ بْنُ عَيْطَلٍ فَأَخَذَهُ الْمَاءُ الْأَصْفَرُ فِي بَطْنِهِ ، حَتَّى خَرَجَ خَرْؤُهُ مِنْ فِيهِ ، فَمَاتَ . وَأَمَّا الْعَاصِي بْنُ وَائِلٍ فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ دَخَلَتْ فِي رِجْلِهِ شَبْرَقَةٌ امْتَلَأَتْ مِنْهَا فَمَاتَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْحَكِيمِ النَّيْسَابُورِيُّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” بے شک مذاق اُڑانے والوں کے مقابلے میں ہم نے تمہاری کفایت کر دی ہے “ ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : مذاق اڑانے والے لوگ یہ تھے ولید بن مغیرہ ، اسود بن عبديغوث ، اسود بن مطلب ، ابوزمعہ جس کا تعلق بنواسد بن عبدالعزیٰ سے ہے ، حارث بن عیطل سہی ، عاص بن وائل سہمی سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سامنے ان لوگوں کی شکایت کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جبرائیل علیہ السلام کو ولید بن مغیرہ دکھایا سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے اس کی ابجل نامی رگ کی طرف اشارہ کیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے کچھ کیا ہے ؟ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: آپ کے لئے میں نے اس کے حوالے سے کفایت کر دی ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حارث بن عیطل سہمی دکھایا سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے اس کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے کچھ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا: آپ کی خاطر میں نے اس کے حوالے سے کفایت کر دی ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عاص بن وائل دکھایا انہوں نے اس کی اخمس نامی رگ کی طرف اشارہ کیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے کچھ کیا ہے ، تو انہوں نے کہا: میں نے اس کے حوالے سے آپ کی کفایت کر دی ہے ۔ جہاں تک ولید بن مغیرہ کا تعلق ہے ، تو وہ خزاعہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے پاس سے گزرا جو اپنے تیر درست کر رہا تھا ، تو اس کی ابجل نامی رگ کے اوپر وہ تیر لگا اور اس نے اس رگ کو کاٹ دیا جہاں تک اسود بن مطلب کا تعلق ہے ، تو وہ نابینا ہو گیا ان میں سے کسی شخص نے یہ کہا: ہے کہ وہ ویسے ہی نابینا ہو گیا تھا اور بعض حضرات نے یہ بات بیان کی ہے کہ وہ ایک درخت کے نیچے ٹھہرا ہوا تھا اس نے یہ کہنا شروع کیا : اے میرے بیٹو کیا تم اسے مجھ سے دور نہیں کرتے ہو میں ہلاکت کا شکار ہو گیا ہوں میری آنکھوں میں کانٹا چبھ گیا ہے ، تو وہ لوگ کہنے لگے ہمیں تو کچھ نظر نہیں آ رہا ہے ، تو اسی طرح کی صورت حال رہی یہاں تک کہ اس شخص کی دونوں آنکھوں کی بینائی ختم ہو گئی ۔ جہاں تک اسود بن عبدیغوث کا تعلق ہے ، تو اس کے سر میں پھوڑا نکلا اور وہ اس کی وجہ سے مر گیا ۔ جہاں تک حارث بن عیطل کا تعلق ہے ، تو اس کے پیٹ میں زرد پانی بھر گیا یہاں تک کہ اس کے منہ سے اس کا پاخانہ باہر آنے لگا ۔ جہاں تک عاصم بن وائل کا تعلق ہے ، تو اس کی ٹانگ میں ایک کانٹا لگا جس کی وجہ سے زخم بھر گیا اور وہ مر گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالحکیم نیشا پوری ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11113
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف