مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ بے شک مذاق اڑانے والوں کے مقابلے میں ہم نے تمہاری کفایت کر دی ہے “
عَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أُنَاسٍ بِمَكَّةَ ، فَجَعَلُوا يَغْمِزُونَ فِي قَفَاهُ وَيَقُولُونَ : هَذَا الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ ! وَمَعَهُ جِبْرِيلُ ، فَغَمَزَ جِبْرِيلُ بِإِصْبَعِهِ فَوَقَعَ مِثْلُ الظُّفْرِ فِي أَجْسَادِهِمْ ، فَصَارَتْ قُرُوحًا حَتَّى نَتُنُوا ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَحَدٌ أَنْ يَدْنُوَ مِنْهُمْ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ دِرْهَمٍ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَوَثَّقَهُ الْفَلَّاسُ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے ان لوگوں نے آپ کے پیچھے آپ پر تنقید کرنا شروع کی اور یہ کہنا شروع کیا کہ یہ وہ صاحب ہیں جو یہ کہتے ہیں : وہ نبی ہیں ۔ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ۔ انہوں نے اپنی انگلی کے ذریعے ایک شخص کو ٹہوکہ دیا ( یا اشارہ کیا ) تو ان کے جسموں میں پھوڑے کی مانند نمودار ہوا ، اور وہ چیز زخم بن گئی ، یہاں تک کہ ان کے جسم بد بودار ہو گئے ، کوئی شخص ان کے قریب نہیں جا سکتا تھا ، تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کی : ” مذاق اڑانے والوں کے مقابلے میں ہم نے تمہاری کفایت کر دی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن درہم ہے ، جسے یحییٰ بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور فلاس نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔