مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اللہ تعالیٰٰ ایمان والوں کو ثابت قول پر برقرار رکھتا ہے “
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ : ( يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ) قَالَ : الْمُخَاطَبَةُ فِي الْقَبْرِ : مَنْ رَبُّكَ ؟ وَمَا دِينُكَ ؟ وَمَنْ نَبِيُّكَ ؟ وَفِي الْآخِرَةِ مِثْلُ ذَلِكَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ نَسْطَاسٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو دنیاوی زندگی میں اور آخرت میں ثابت قول پر برقرار رکھتا ہے “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : اس سے مراد قبر کے سوالات و جوابات تھے جس میں یہ پوچھا: جاتا ہے تمہارا پروردگار کون ہے ؟ تمہارا دین کیا ہے ؟ تمہارے نبی کون ہیں ؟ آخرت میں بھی اس کی مانند ( سوال جواب ہوں گے ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن عبید بن نسطاس ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔