حدیث نمبر: 11101
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ : ( يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ) قَالَ : الْمُخَاطَبَةُ فِي الْقَبْرِ : مَنْ رَبُّكَ ؟ وَمَا دِينُكَ ؟ وَمَنْ نَبِيُّكَ ؟ وَفِي الْآخِرَةِ مِثْلُ ذَلِكَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ نَسْطَاسٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو دنیاوی زندگی میں اور آخرت میں ثابت قول پر برقرار رکھتا ہے “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : اس سے مراد قبر کے سوالات و جوابات تھے جس میں یہ پوچھا: جاتا ہے تمہارا پروردگار کون ہے ؟ تمہارا دین کیا ہے ؟ تمہارے نبی کون ہیں ؟ آخرت میں بھی اس کی مانند ( سوال جواب ہوں گے ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن عبید بن نسطاس ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11101
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12242)»