مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اللہ تعالیٰٰ ایمان والوں کو ثابت قول پر برقرار رکھتا ہے “
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ فِي قَوْلِهِ - تَعَالَى - : ( يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ) قَالَ : إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا مَاتَ أُجْلِسَ فِي قَبْرِهِ فَيُقَالُ لَهُ : مَنْ رَبُّكَ ؟ فَيَقُولُ : اللَّهُ رَبِّي ، فَيُقَالُ لَهُ : مَنْ نَبِيُّكَ ؟ فَيَقُولُ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ . فَيَرُدُّ عَلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صَدَقَةَ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي السُّؤَالِ فِي الْقَبْرِ فِي الْجَنَائِزِ مِنْ هَذَا الْبَابِ . ¤سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو ثابت قول پر دنیاوی زندگی میں اور آخرت میں برقرار رکھتا ہے “ ۔ سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب مومن مر جاتا ہے ، تو اسے اس کی قبر میں بٹھایا جاتا ہے ، اور اس سے دریافت کیا جاتا ہے : تمہارا پروردگار کون ہے ؟ وہ جواب دیتا ہے : اللہ تعالیٰ میرا پروردگار ہے اس سے دریافت کیا جاتا ہے تمہارے نبی کون ہیں ؟ وہ جواب دیتا ہے : سیدنا محمد بن عبداللہ اس سے تین مرتبہ یہ سوالات کیے جاتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے اسے اپنے استاد أحمد بن محمد بن صدقہ کے حوالے سے نقل کیا ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : قبر میں سوالات کے بارے میں احادیث جنائز سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔