کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اللہ تعالیٰٰ ایمان والوں کو ثابت قول پر برقرار رکھتا ہے “
حدیث نمبر: 11099
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي هَذِهِ الْآيَةِ يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ قَالَ : " فِي الْآخِرَةِ فِي الْقَبْرِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آیت کے بارے میں یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو ثابت قول پر دنیاوی زندگی میں اور آخرت میں برقرار رکھتا ہے “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آخرت سے مراد قبر ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطیہ عوفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11099
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 11100
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ فِي قَوْلِهِ - تَعَالَى - : ( يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ) قَالَ : إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا مَاتَ أُجْلِسَ فِي قَبْرِهِ فَيُقَالُ لَهُ : مَنْ رَبُّكَ ؟ فَيَقُولُ : اللَّهُ رَبِّي ، فَيُقَالُ لَهُ : مَنْ نَبِيُّكَ ؟ فَيَقُولُ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ . فَيَرُدُّ عَلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صَدَقَةَ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي السُّؤَالِ فِي الْقَبْرِ فِي الْجَنَائِزِ مِنْ هَذَا الْبَابِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو ثابت قول پر دنیاوی زندگی میں اور آخرت میں برقرار رکھتا ہے “ ۔ سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب مومن مر جاتا ہے ، تو اسے اس کی قبر میں بٹھایا جاتا ہے ، اور اس سے دریافت کیا جاتا ہے : تمہارا پروردگار کون ہے ؟ وہ جواب دیتا ہے : اللہ تعالیٰ میرا پروردگار ہے اس سے دریافت کیا جاتا ہے تمہارے نبی کون ہیں ؟ وہ جواب دیتا ہے : سیدنا محمد بن عبداللہ اس سے تین مرتبہ یہ سوالات کیے جاتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے اسے اپنے استاد أحمد بن محمد بن صدقہ کے حوالے سے نقل کیا ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : قبر میں سوالات کے بارے میں احادیث جنائز سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11100
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1369)»
حدیث نمبر: 11101
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ : ( يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ) قَالَ : الْمُخَاطَبَةُ فِي الْقَبْرِ : مَنْ رَبُّكَ ؟ وَمَا دِينُكَ ؟ وَمَنْ نَبِيُّكَ ؟ وَفِي الْآخِرَةِ مِثْلُ ذَلِكَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ نَسْطَاسٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو دنیاوی زندگی میں اور آخرت میں ثابت قول پر برقرار رکھتا ہے “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : اس سے مراد قبر کے سوالات و جوابات تھے جس میں یہ پوچھا: جاتا ہے تمہارا پروردگار کون ہے ؟ تمہارا دین کیا ہے ؟ تمہارے نبی کون ہیں ؟ آخرت میں بھی اس کی مانند ( سوال جواب ہوں گے ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن عبید بن نسطاس ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11101
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12242)»