حدیث نمبر: 11050
وَعَنْ عُمَيْرَةَ بِنْتِ سَهْلٍ صَاحِبِ الصَّاعَيْنِ الَّذِي لَمَزَهُ الْمُنَافِقُونَ ، أَنَّهُ خَرَجَ بِرِكَابِهِ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ وَبِابْنَتِهِ عُمَيْرَةَ حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَبَّهُ ، ثُمَّ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً ، قَالَ : " وَمَا هِيَ ؟ " . قَالَ : تَدْعُو اللَّهَ لِي وَلَهَا بِالْبَرَكَةِ ، وَتَمْسَحُ بِرَأْسِهَا ، فَإِنَّهُ لَيْسَ لِي وَلَدٌ غَيْرُهَا . قَالَتْ : فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ عَلَيَّ ، فَأُقْسِمُ بِاللَّهِ لَكَأَنَّ بَرْدَ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى كَبِدِي . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أُنَيْسَةُ بِنْتُ عَدِيٍّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمیرہ بنت سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : یہ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ وہ صاحب ہیں ، جنہوں نے دو صاع لیے تھے اور منافقین نے ان پر تنقید کی تھی وہ بیان کرتی ہیں : سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کھجور کا ایک صاع لے کر اور اپنی صاحبزادی عمیرہ کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئے اور وہ کھجوریں آپ کی خدمت میں پیش کیں پھر انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے آپ سے ایک کام ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا کام ہے ۔ انہوں نے عرض کی : آپ اللہ تعالیٰ سے میرے لئے اور میری اس بچی کے لئے برکت کی دعا کریں اور اس کے سر پر ہاتھ پھیر دیں کیونکہ میری اس کے علاوہ اور کوئی اولاد نہیں ہے ، تو وہ خاتون بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر اپنا دست مبارک رکھا میں اللہ کی قسم ! اُٹھا کر یہ کہتی ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کی ٹھنڈک مجھے اپنے جگر پر محسوس ہوئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی انیسہ بنت عدی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11050
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5650)»