حدیث نمبر: 11051
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا مَرِضَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ جَاءَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَكَلَّمَا بِكَلَامٍ بَيْنَهُمَا ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : قَدْ فَهِمْتُ مَا يَقُولُ ، امْنُنْ عَلَيَّ فَكَفِّنِّي فِي قَمِيصِكَ ، وَصَلِّ عَلَيَّ . فَكَفَّنَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قَمِيصِهِ وَصَلَّى عَلَيْهِ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَيَّ صَلَاةٍ كَانَتْ ، وَمَا خَادَعَ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنْسَانًا قَطُّ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ أَبَانٍ ، وَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ وَجَمَاعَةٌ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب عبداللہ بن اُبی اس بیماری کا شکار ہوا جس میں وہ بعد میں مر گیا تھا ، تو اس دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے ان دونوں کے درمیان کوئی گفتگو ہوئی تو عبداللہ نے کہا: یہ جو کہہ رہے ہیں وہ بات مجھے سمجھ آ گئی ہے آپ مجھ پر یہ احسان کریں کہ آپ مجھے اپنی قمیص میں کفن دیجئے گا اور میری نماز جنازہ پڑھائیے گا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص میں اسے کفن دیا اور اس کی نماز جنازہ ادا کی ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کون سی نماز تھی ویسے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے کبھی کسی انسان کو دھوکہ نہیں دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکم بن ابان ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ اور ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ ابن مبارک نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11051
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن