مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ وہ لوگ جو ، اہل ایمان میں سے اپنی خوشی کے ساتھ ( زکوۃ ادا کرنے والوں ) پر ، نکتہ چینی کرتے ہیں “
وَعَنْ أَبِي عُقَيْلٍ أَنَّهُ بَاتَ يَجُرُّ الْحَرِيرَ عَلَى ظَهْرِهِ عَلَى صَاعَيْنِ مِنْ تَمْرٍ ، فَانْقَلَبَ بِأَحَدِهِمَا إِلَى أَهْلِهِ يَنْتَفِعُونَ بِهِ ، وَجَاءَ بِالْآخَرِ يَتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَأَتَى بِهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " انْثُرْهُ فِي الصَّدَقَةِ " . فَقَالَ فِيهِ الْمُنَافِقُونَ وَسَخِرُوا مِنْهُ : مَا كَانَ أَغْنَى هَذَا أَنْ يَتَقَرَّبَ إِلَى اللَّهِ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ . فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ الْآيَتَيْنِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ خَالِدَ بْنَ يَسَارٍ لَمْ أَجِدْ مَنْ وَثَّقَهُ وَلَا جَرَّحَهُ . ¤سیدنا ابوعقیل رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ کھجور کے دو صاع کے عوض میں رات کے وقت اپنی پشت پر وزن لاد کر لے جاتے رہے پھر ان دو صاع میں سے ایک اپنے گھر لے گئے تاکہ گھر والے اسے استعمال کریں اور دوسرا لے آئے تاکہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قربت حاصل کریں وہ اس کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئے اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے صدقہ کی چیزوں میں پھیلا دو منافقین نے ان صاحب کے بارے میں یہ کہا: وہ ان کا مذاق اڑا رہے تھے کہ کیا یہ شخص اس چیز سے بے نیاز نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے کھجور کا ایک ہی صاع دیتا ؟ تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی : ” جو لوگ ، اہل ایمان میں سے اپنی خوشی کے ساتھ صدقہ دینے والوں پر ، نکتہ چینی کرتے ہیں وہ اہل ایمان کہ جو صرف اپنی محنت کی کمائی پاتے ہیں “ ۔ یہ دو آیات ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کے رجال ثقہ ہیں البتہ خالد بن یسار کا معاملہ مختلف ہے میں نے کسی کو اس کی توثیق کرتے ہوئے یا اس پر جرح کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔