کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ وہ لوگ جو ، اہل ایمان میں سے اپنی خوشی کے ساتھ ( زکوۃ ادا کرنے والوں ) پر ، نکتہ چینی کرتے ہیں “
حدیث نمبر: 11048
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَصَدَّقُوا فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَبْعَثَ بَعْثًا " . قَالَ : فَجَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عِنْدِي أَرْبَعَةُ آلَافٍ ، أَلْفَانِ أَقْرَضْتُهُمَا رَبِّي وَأَلْفَانِ لِعِيَالِي ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِيمَا أَعْطَيْتَ ، وَبَارَكَ لَكَ فِيمَا أَمْسَكْتَ " . وَبَاتَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَصَابَ صَاعَيْنِ مِنْ تَمْرٍ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَصَبْتُ صَاعَيْنِ مِنْ تَمْرٍ ، صَاعٌ لِرَبِّي وَصَاعٌ لِعِيَالِي ؟ قَالَ : فَلَمَزَهُ الْمُنَافِقُونَ وَقَالُوا : مَا أَعْطَى مِثْلَ الَّذِي أَعْطَى ابْنُ عَوْفٍ إِلَّا رِيَاءً . أَوْ قَالُوا : أَلَمْ يَكُنِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ غَنِيَّيْنِ عَنْ صَاعِ هَذَا ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقَيْنِ ؛ إِحْدَاهُمَا مُتَّصِلَةٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَالْأُخْرَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ مُرْسَلَةٌ ، قَالَ : وَلَمْ نَسْمَعْ أَحَدًا أَسْنَدَهُ مِنْ حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ إِلَّا طَالُوتَ بْنَ عَبَّادٍ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ وَأَبُو خَيْثَمَةَ وَابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ صدقہ دو کیونکہ میں ایک جنگی مہم روانہ کرنا چاہتا ہوں سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آئے اور بولے : یا رسول اللہ ! میرے پاس چار ہزار ہیں ان میں سے دو ہزار میں اپنے پروردگار کو قرض کے طور پر دیتا ہوں اور دو ہزار میرے گھر والوں کے لئے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے جو دیا ہے اللہ تعالیٰ اس میں بھی تمہیں برکت نصیب کرے اور جو نہیں دیا ہے اس میں بھی تمہیں برکت نصیب کرے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے رات گزاری اسے کھجور کے دو صاع ملے اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے کھجور کے دو صاع ملے ہیں ایک صاع میرے پروردگار کے لئے ہے ، اور ایک صاع میرے گھر والوں کے لئے ہے راوی بیان کرتے ہیں : تو منافقین نے اس پر تنقید کرتے ہوئے یہ کہا: اس نے ریاکاری کے طور پر سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی طرح کی ادائیگی کی ہے راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ان لوگوں نے کہا: کیا اللہ اور اس کا رسول اس شخص کے ایک صاع سے بے نیاز نہیں ہیں ؟ ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” وہ لوگ جو اہل ایمان میں سے اپنی خوشی کے ساتھ صدقات دینے والوں پر نکتہ چینی کرتے ہیں وہ اہل ایمان کے جنہیں صرف اپنی محنت کی کمائی کے علاوہ اور کچھ نہیں ملتا “ ۔ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک متصل ہے ، اور وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، اور دوسری سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، اور وہ مرسل ہے امام بزار کہتے ہیں : عمر بن ابوسلمہ سے منقول روایت کے طور پر ہم نے کسی کو نہیں سنا کہ اس نے اسے مسند طور پر نقل کیا ہو صرف طالوت بن عباد نے ایسا کیا ہے اس روایت کی سند میں ایک راوی عمر بن ابوسلمہ ہے ، جسے عجلی ابوخیثمہ اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے شعبہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ان دونوں روایات کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک متصل ہے ، اور وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، اور دوسری سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، اور وہ مرسل ہے امام بزار کہتے ہیں : عمر بن ابوسلمہ سے منقول روایت کے طور پر ہم نے کسی کو نہیں سنا کہ اس نے اسے مسند طور پر نقل کیا ہو صرف طالوت بن عباد نے ایسا کیا ہے اس روایت کی سند میں ایک راوی عمر بن ابوسلمہ ہے ، جسے عجلی ابوخیثمہ اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے شعبہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ان دونوں روایات کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 11049
وَعَنْ أَبِي عُقَيْلٍ أَنَّهُ بَاتَ يَجُرُّ الْحَرِيرَ عَلَى ظَهْرِهِ عَلَى صَاعَيْنِ مِنْ تَمْرٍ ، فَانْقَلَبَ بِأَحَدِهِمَا إِلَى أَهْلِهِ يَنْتَفِعُونَ بِهِ ، وَجَاءَ بِالْآخَرِ يَتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَأَتَى بِهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " انْثُرْهُ فِي الصَّدَقَةِ " . فَقَالَ فِيهِ الْمُنَافِقُونَ وَسَخِرُوا مِنْهُ : مَا كَانَ أَغْنَى هَذَا أَنْ يَتَقَرَّبَ إِلَى اللَّهِ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ . فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ الْآيَتَيْنِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ خَالِدَ بْنَ يَسَارٍ لَمْ أَجِدْ مَنْ وَثَّقَهُ وَلَا جَرَّحَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوعقیل رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ کھجور کے دو صاع کے عوض میں رات کے وقت اپنی پشت پر وزن لاد کر لے جاتے رہے پھر ان دو صاع میں سے ایک اپنے گھر لے گئے تاکہ گھر والے اسے استعمال کریں اور دوسرا لے آئے تاکہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قربت حاصل کریں وہ اس کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئے اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے صدقہ کی چیزوں میں پھیلا دو منافقین نے ان صاحب کے بارے میں یہ کہا: وہ ان کا مذاق اڑا رہے تھے کہ کیا یہ شخص اس چیز سے بے نیاز نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے کھجور کا ایک ہی صاع دیتا ؟ تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی : ” جو لوگ ، اہل ایمان میں سے اپنی خوشی کے ساتھ صدقہ دینے والوں پر ، نکتہ چینی کرتے ہیں وہ اہل ایمان کہ جو صرف اپنی محنت کی کمائی پاتے ہیں “ ۔ یہ دو آیات ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کے رجال ثقہ ہیں البتہ خالد بن یسار کا معاملہ مختلف ہے میں نے کسی کو اس کی توثیق کرتے ہوئے یا اس پر جرح کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کے رجال ثقہ ہیں البتہ خالد بن یسار کا معاملہ مختلف ہے میں نے کسی کو اس کی توثیق کرتے ہوئے یا اس پر جرح کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 11050
وَعَنْ عُمَيْرَةَ بِنْتِ سَهْلٍ صَاحِبِ الصَّاعَيْنِ الَّذِي لَمَزَهُ الْمُنَافِقُونَ ، أَنَّهُ خَرَجَ بِرِكَابِهِ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ وَبِابْنَتِهِ عُمَيْرَةَ حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَبَّهُ ، ثُمَّ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً ، قَالَ : " وَمَا هِيَ ؟ " . قَالَ : تَدْعُو اللَّهَ لِي وَلَهَا بِالْبَرَكَةِ ، وَتَمْسَحُ بِرَأْسِهَا ، فَإِنَّهُ لَيْسَ لِي وَلَدٌ غَيْرُهَا . قَالَتْ : فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ عَلَيَّ ، فَأُقْسِمُ بِاللَّهِ لَكَأَنَّ بَرْدَ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى كَبِدِي . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أُنَيْسَةُ بِنْتُ عَدِيٍّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمیرہ بنت سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : یہ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ وہ صاحب ہیں ، جنہوں نے دو صاع لیے تھے اور منافقین نے ان پر تنقید کی تھی وہ بیان کرتی ہیں : سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کھجور کا ایک صاع لے کر اور اپنی صاحبزادی عمیرہ کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئے اور وہ کھجوریں آپ کی خدمت میں پیش کیں پھر انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے آپ سے ایک کام ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا کام ہے ۔ انہوں نے عرض کی : آپ اللہ تعالیٰ سے میرے لئے اور میری اس بچی کے لئے برکت کی دعا کریں اور اس کے سر پر ہاتھ پھیر دیں کیونکہ میری اس کے علاوہ اور کوئی اولاد نہیں ہے ، تو وہ خاتون بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر اپنا دست مبارک رکھا میں اللہ کی قسم ! اُٹھا کر یہ کہتی ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کی ٹھنڈک مجھے اپنے جگر پر محسوس ہوئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی انیسہ بنت عدی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی انیسہ بنت عدی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔