مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ وہ لوگ جو ، اہل ایمان میں سے اپنی خوشی کے ساتھ ( زکوۃ ادا کرنے والوں ) پر ، نکتہ چینی کرتے ہیں “
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَصَدَّقُوا فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَبْعَثَ بَعْثًا " . قَالَ : فَجَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عِنْدِي أَرْبَعَةُ آلَافٍ ، أَلْفَانِ أَقْرَضْتُهُمَا رَبِّي وَأَلْفَانِ لِعِيَالِي ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِيمَا أَعْطَيْتَ ، وَبَارَكَ لَكَ فِيمَا أَمْسَكْتَ " . وَبَاتَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَصَابَ صَاعَيْنِ مِنْ تَمْرٍ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَصَبْتُ صَاعَيْنِ مِنْ تَمْرٍ ، صَاعٌ لِرَبِّي وَصَاعٌ لِعِيَالِي ؟ قَالَ : فَلَمَزَهُ الْمُنَافِقُونَ وَقَالُوا : مَا أَعْطَى مِثْلَ الَّذِي أَعْطَى ابْنُ عَوْفٍ إِلَّا رِيَاءً . أَوْ قَالُوا : أَلَمْ يَكُنِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ غَنِيَّيْنِ عَنْ صَاعِ هَذَا ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقَيْنِ ؛ إِحْدَاهُمَا مُتَّصِلَةٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَالْأُخْرَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ مُرْسَلَةٌ ، قَالَ : وَلَمْ نَسْمَعْ أَحَدًا أَسْنَدَهُ مِنْ حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ إِلَّا طَالُوتَ بْنَ عَبَّادٍ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ وَأَبُو خَيْثَمَةَ وَابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ صدقہ دو کیونکہ میں ایک جنگی مہم روانہ کرنا چاہتا ہوں سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آئے اور بولے : یا رسول اللہ ! میرے پاس چار ہزار ہیں ان میں سے دو ہزار میں اپنے پروردگار کو قرض کے طور پر دیتا ہوں اور دو ہزار میرے گھر والوں کے لئے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے جو دیا ہے اللہ تعالیٰ اس میں بھی تمہیں برکت نصیب کرے اور جو نہیں دیا ہے اس میں بھی تمہیں برکت نصیب کرے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے رات گزاری اسے کھجور کے دو صاع ملے اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے کھجور کے دو صاع ملے ہیں ایک صاع میرے پروردگار کے لئے ہے ، اور ایک صاع میرے گھر والوں کے لئے ہے راوی بیان کرتے ہیں : تو منافقین نے اس پر تنقید کرتے ہوئے یہ کہا: اس نے ریاکاری کے طور پر سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی طرح کی ادائیگی کی ہے راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ان لوگوں نے کہا: کیا اللہ اور اس کا رسول اس شخص کے ایک صاع سے بے نیاز نہیں ہیں ؟ ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” وہ لوگ جو اہل ایمان میں سے اپنی خوشی کے ساتھ صدقات دینے والوں پر نکتہ چینی کرتے ہیں وہ اہل ایمان کے جنہیں صرف اپنی محنت کی کمائی کے علاوہ اور کچھ نہیں ملتا “ ۔ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک متصل ہے ، اور وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، اور دوسری سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، اور وہ مرسل ہے امام بزار کہتے ہیں : عمر بن ابوسلمہ سے منقول روایت کے طور پر ہم نے کسی کو نہیں سنا کہ اس نے اسے مسند طور پر نقل کیا ہو صرف طالوت بن عباد نے ایسا کیا ہے اس روایت کی سند میں ایک راوی عمر بن ابوسلمہ ہے ، جسے عجلی ابوخیثمہ اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے شعبہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ان دونوں روایات کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔