مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : وَأَذَانٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى النَّاسِ يَوْمَ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ یہ حج اکبر کے دن ، اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لوگوں کے لئے عام اعلان ہے “
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ عَشْرُ آيَاتٍ مِنْ ( بَرَاءَةٌ ) عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبَا بَكْرٍ [ فَبَعَثَهُ بِهَا ] لِيَقْرَأَهَا عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ ، ثُمَّ دَعَانِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَدْرِكْ أَبَا بَكْرٍ ، فَحَيْثُ مَا لَقِيتَهُ فَخُذِ الْكِتَابَ مِنْهُ فَاقْرَأْهُ عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ " . فَلَحِقْتُهُ ، فَأَخَذْتُ الْكِتَابَ مِنْهُ ، وَرَجَعَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَزَلَ فِيَّ شَيْءٌ ؟ قَالَ : " لَا ، وَلَكِنَّ جِبْرِيلَ جَاءَنِي فَقَالَ : لَنْ يُؤَدِّيَ عَنْكَ إِلَّا أَنْتَ أَوْ رَجُلٌ مِنْكَ " . رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ السُّحَيْمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب سورت توبہ کی دس آیات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور انہیں ان کے ہمراہ بھیجا تاکہ وہ اہل مکہ کے سامنے ان کی تلاوت کر دیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلوایا اور مجھ سے فرمایا : تم ابوبکر کے پاس پہنچو جہاں تم اس سے ملو گے وہاں تم اس سے تحریر لے لینا اور اہل مکہ کے سامنے تم ان آیات کی تلاوت کرنا میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملا میں نے ان سے وہ تحریر لے لی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میرے بارے میں کوئی چیز نازل ہو گئی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں لیکن سیدنا جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا: آپ کی طرف سے اس فریضے کی ادائیگی صرف آپ خود کر سکتے ہیں یا آپ کے خاندان کا کوئی فرد کر سکتا ہے ۔