مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : وَأَذَانٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى النَّاسِ يَوْمَ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ یہ حج اکبر کے دن ، اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لوگوں کے لئے عام اعلان ہے “
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : كَانَ الْعَرَبُ يُحِلُّونَ عَامًا شَهْرًا وَعَامًا شَهْرَيْنِ ، وَلَا يُصِيبُونَ الْحَجَّ إِلَّا فِي كُلِّ سِتَّةٍ وَعِشْرِينَ سَنَةً مَرَّةً ، وَهُوَ النَّسِيءُ الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - فِي كِتَابِهِ ، فَلَمَّا كَانَ عَامُ حَجِّ أَبِي بَكْرٍ بِالنَّاسِ ، وَافَقَ ذَلِكَ الْعَامُ الْحَجَّ ، فَسَمَّاهُ اللَّهُ الْحَجَّ الْأَكْبَرَ ، ثُمَّ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ ، فَاسْتَقْبَلَ النَّاسُ الْأَهِلَّةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عرب ایک سال ایک مہینے کو حلال قرار دے دیتے تھے اور ایک سال دو مہینوں کو حلال قرار دیتے تھے ، تو وہ ہر چھبیس سال میں ایک مرتبہ حج کے صحیح وقت تک پہنچتے تھے یہ وہ ادھار ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے جب وہ سال آیا جس میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو حج کروایا تھا ، تو وہ سال حج والا سال ہی تھا ، تو اللہ تعالٰی نے اسے حج اکبر کا نام دیا پھر اگلے سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا تو لوگوں نے پہلی کے چاند کا درست حساب رکھنا شروع کر دیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک زمانہ اسی حساب سے چل رہا ہے جیسے اس وقت تھا جب اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔