کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ یہ حج اکبر کے دن ، اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لوگوں کے لئے عام اعلان ہے “
حدیث نمبر: 11036
عَنْ سَمُرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ يَوْمَ حَجَّ أَبُو بَكْرٍ بِالنَّاسِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ مُعَاذَ بْنَ هِشَامٍ قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان قتل کرتے ہیں : ” حج اکبر کا دن وہ دن ہے جس دن میں ابوبکر نے لوگوں کو حج کروایا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف معاذ بن ہشام کا معاملہ مختلف ہے وہ کہتے ہیں : میں نے اپنے والد کی تحریر میں یہ بات پائی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف معاذ بن ہشام کا معاملہ مختلف ہے وہ کہتے ہیں : میں نے اپنے والد کی تحریر میں یہ بات پائی ہے ۔
حدیث نمبر: 11037
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ زَمَنَ الْفَتْحِ : " إِنَّ هَذَا عَامُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ " . قَالَ : " اجْتَمَعَ حَجُّ الْمُسْلِمِينَ وَحَجُّ الْمُشْرِكِينَ فِي ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مُتَتَابِعَاتٍ ، وَاجْتَمَعَ النَّصَارَى وَالْيَهُودُ فِي ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مُتَتَابِعَاتٍ ، فَاجْتَمَعَ حَجُّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِكِينَ وَالنَّصَارَى وَالْيَهُودِ الْعَامَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ مُتَتَابِعَاتٍ ، وَلَمْ يَجْتَمِعْ مُنْذُ خُلِقَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ كَذَلِكَ قَبْلَ الْعَامِ وَلَا يَجْتَمِعُ بَعْدَ الْعَامِ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، وَلَكِنَّ مَتْنَهُ مُنْكَرٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : فتح کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ حج اکبر کا سال ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مسلمانوں کا حج اور مشرکین کا حج مسلسل تین دن تک اکٹھا رہا عیسائیوں اور یہودیوں کا حج مسلسل تین دن تک اکٹھا رہا تو ایک ہی سال میں مسلسل چھ دن تک مسلمانوں مشرکین عیسائیوں اور یہودیوں کا حج اکٹھا رہا جب سے آسمان و زمین پیدا ہوئے ہیں اس وقت سے لے کر اس سال سے پہلے کبھی یہ اکٹھا نہیں ہوا اور اس سال کے بعد قیامت قائم ہونے تک یہ کبھی اکٹھا نہیں ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، تاہم اس کا متن منکر ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، تاہم اس کا متن منکر ہے ۔
حدیث نمبر: 11038
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : كَانَ الْعَرَبُ يُحِلُّونَ عَامًا شَهْرًا وَعَامًا شَهْرَيْنِ ، وَلَا يُصِيبُونَ الْحَجَّ إِلَّا فِي كُلِّ سِتَّةٍ وَعِشْرِينَ سَنَةً مَرَّةً ، وَهُوَ النَّسِيءُ الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - فِي كِتَابِهِ ، فَلَمَّا كَانَ عَامُ حَجِّ أَبِي بَكْرٍ بِالنَّاسِ ، وَافَقَ ذَلِكَ الْعَامُ الْحَجَّ ، فَسَمَّاهُ اللَّهُ الْحَجَّ الْأَكْبَرَ ، ثُمَّ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ ، فَاسْتَقْبَلَ النَّاسُ الْأَهِلَّةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عرب ایک سال ایک مہینے کو حلال قرار دے دیتے تھے اور ایک سال دو مہینوں کو حلال قرار دیتے تھے ، تو وہ ہر چھبیس سال میں ایک مرتبہ حج کے صحیح وقت تک پہنچتے تھے یہ وہ ادھار ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے جب وہ سال آیا جس میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو حج کروایا تھا ، تو وہ سال حج والا سال ہی تھا ، تو اللہ تعالٰی نے اسے حج اکبر کا نام دیا پھر اگلے سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا تو لوگوں نے پہلی کے چاند کا درست حساب رکھنا شروع کر دیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک زمانہ اسی حساب سے چل رہا ہے جیسے اس وقت تھا جب اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 11039
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ عَشْرُ آيَاتٍ مِنْ ( بَرَاءَةٌ ) عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبَا بَكْرٍ [ فَبَعَثَهُ بِهَا ] لِيَقْرَأَهَا عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ ، ثُمَّ دَعَانِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَدْرِكْ أَبَا بَكْرٍ ، فَحَيْثُ مَا لَقِيتَهُ فَخُذِ الْكِتَابَ مِنْهُ فَاقْرَأْهُ عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ " . فَلَحِقْتُهُ ، فَأَخَذْتُ الْكِتَابَ مِنْهُ ، وَرَجَعَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَزَلَ فِيَّ شَيْءٌ ؟ قَالَ : " لَا ، وَلَكِنَّ جِبْرِيلَ جَاءَنِي فَقَالَ : لَنْ يُؤَدِّيَ عَنْكَ إِلَّا أَنْتَ أَوْ رَجُلٌ مِنْكَ " . رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ السُّحَيْمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب سورت توبہ کی دس آیات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور انہیں ان کے ہمراہ بھیجا تاکہ وہ اہل مکہ کے سامنے ان کی تلاوت کر دیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلوایا اور مجھ سے فرمایا : تم ابوبکر کے پاس پہنچو جہاں تم اس سے ملو گے وہاں تم اس سے تحریر لے لینا اور اہل مکہ کے سامنے تم ان آیات کی تلاوت کرنا میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملا میں نے ان سے وہ تحریر لے لی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میرے بارے میں کوئی چیز نازل ہو گئی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں لیکن سیدنا جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا: آپ کی طرف سے اس فریضے کی ادائیگی صرف آپ خود کر سکتے ہیں یا آپ کے خاندان کا کوئی فرد کر سکتا ہے ۔