حدیث نمبر: 11037
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ زَمَنَ الْفَتْحِ : " إِنَّ هَذَا عَامُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ " . قَالَ : " اجْتَمَعَ حَجُّ الْمُسْلِمِينَ وَحَجُّ الْمُشْرِكِينَ فِي ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مُتَتَابِعَاتٍ ، وَاجْتَمَعَ النَّصَارَى وَالْيَهُودُ فِي ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مُتَتَابِعَاتٍ ، فَاجْتَمَعَ حَجُّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِكِينَ وَالنَّصَارَى وَالْيَهُودِ الْعَامَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ مُتَتَابِعَاتٍ ، وَلَمْ يَجْتَمِعْ مُنْذُ خُلِقَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ كَذَلِكَ قَبْلَ الْعَامِ وَلَا يَجْتَمِعُ بَعْدَ الْعَامِ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، وَلَكِنَّ مَتْنَهُ مُنْكَرٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : فتح کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ حج اکبر کا سال ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مسلمانوں کا حج اور مشرکین کا حج مسلسل تین دن تک اکٹھا رہا عیسائیوں اور یہودیوں کا حج مسلسل تین دن تک اکٹھا رہا تو ایک ہی سال میں مسلسل چھ دن تک مسلمانوں مشرکین عیسائیوں اور یہودیوں کا حج اکٹھا رہا جب سے آسمان و زمین پیدا ہوئے ہیں اس وقت سے لے کر اس سال سے پہلے کبھی یہ اکٹھا نہیں ہوا اور اس سال کے بعد قیامت قائم ہونے تک یہ کبھی اکٹھا نہیں ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، تاہم اس کا متن منکر ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11037
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منکر
تخریج حدیث «أخرجه البزار فى المسند (1826) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7040)»