مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : وَأَذَانٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى النَّاسِ يَوْمَ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ یہ حج اکبر کے دن ، اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لوگوں کے لئے عام اعلان ہے “
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ زَمَنَ الْفَتْحِ : " إِنَّ هَذَا عَامُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ " . قَالَ : " اجْتَمَعَ حَجُّ الْمُسْلِمِينَ وَحَجُّ الْمُشْرِكِينَ فِي ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مُتَتَابِعَاتٍ ، وَاجْتَمَعَ النَّصَارَى وَالْيَهُودُ فِي ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مُتَتَابِعَاتٍ ، فَاجْتَمَعَ حَجُّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِكِينَ وَالنَّصَارَى وَالْيَهُودِ الْعَامَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ مُتَتَابِعَاتٍ ، وَلَمْ يَجْتَمِعْ مُنْذُ خُلِقَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ كَذَلِكَ قَبْلَ الْعَامِ وَلَا يَجْتَمِعُ بَعْدَ الْعَامِ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، وَلَكِنَّ مَتْنَهُ مُنْكَرٌ . ¤سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : فتح کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ حج اکبر کا سال ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مسلمانوں کا حج اور مشرکین کا حج مسلسل تین دن تک اکٹھا رہا عیسائیوں اور یہودیوں کا حج مسلسل تین دن تک اکٹھا رہا تو ایک ہی سال میں مسلسل چھ دن تک مسلمانوں مشرکین عیسائیوں اور یہودیوں کا حج اکٹھا رہا جب سے آسمان و زمین پیدا ہوئے ہیں اس وقت سے لے کر اس سال سے پہلے کبھی یہ اکٹھا نہیں ہوا اور اس سال کے بعد قیامت قائم ہونے تک یہ کبھی اکٹھا نہیں ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، تاہم اس کا متن منکر ہے ۔