حدیث نمبر: 11020
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَخَذَ الْمِيثَاقَ مِنْ ظَهْرِ آدَمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - بِنَعْمَانَ - يَعْنِي : عَرَفَةَ - ، فَأَخْرَجَ مِنْ صُلْبِهِ كُلَّ ذُرِّيَّةٍ ذَرَأَهَا ، فَنَثَرَهُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ [ كَالذَّرِّ ] ، ثُمَّ كَلَّمَهُمْ قِبَلًا ، فَقَالَ : أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِنْ بَعْدِهِمْ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے عرفہ میں سیدنا آدم علیہ السلام کی پشت سے میثاق لیا تھا اس نے ان کی پشت سے ان کی ہر اس اولاد کو نکال دیا جس کو اس نے پیدا کرنا تھا اور سیدنا آدم علیہ السلام کے سامنے یوں پھیلا دیا جیسے چیونٹیاں ہوتی ہیں پھر ان کے سامنے آ کر ان کے ساتھ کلام کیا ، اور فرمایا : کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں ( پروردگار نے فرمایا : ) ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن تم یہ کہو کہ ہم اس چیز سے غافل تھے یا تم یہ کہو کہ اس سے پہلے ہمارے باپ دادا شرک کر چکے تھے ہم تو اس کے بعد آنے والی اولاد تھے ، تو کیا تو ہمیں ان لوگوں کی وجہ سے ہلاکت کا شکار کر دے گا جو باطل لوگوں نے کام کیا تھا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11020
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح