مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : ﴿مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ﴾ باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ جو شخص برا عمل کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا “
عَنْ آمِنَةَ أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ زَوْجَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ قَوْلِهِ : ( مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ ) قُلْتُ : مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ مُنْذُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْهَا فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، هَذِهِ مُبَايَعَةُ اللَّهِ الْعَبْدَ لِمَا يُصِيبُهُ مِنَ الْحُمَّى وَالنَّكْبَةِ وَالشَّوْكَةِ ، حَتَّى الْبِضَاعَةِ يَضَعُهَا فِي كُمِّهِ فَيَفْقِدُهَا فَيَفْزَعُ لَهَا فَيَجِدُهَا فِي ضِبْنِهِ ، حَتَّى إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيَخْرُجُ مِنْ ذُنُوبِهِ كَمَا يَخْرُجُ التِّبْرُ الْأَحْمَرُ مِنَ الْكِيرِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَمِينَةُ لَمْ أَعْرِفْهَا . ¤آمنہ نامی خاتون بیان کرتی ہیں : انہوں نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں ، ان سے اللہ تعالی کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” جو شخص برا عمل کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا “ ۔ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : جب سے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں دریافت کیا ہے اس کے بعد کبھی کسی نے مجھ سے اس کے بارے میں نہیں پوچھا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تھا : ” اے عائشہ ! یہ اللہ تعالیٰ کا بندے کے ساتھ لین دین ہے اللہ تعالیٰ بندے کو بخار تکلیف کانٹا لگنے جیسی آزمائش میں مبتلا کرتا ہے یہاں تک کہ وہ سامان جو اس نے اپنی آستین میں رکھا ہوتا ہے ، اور پھر اسے غیر موجود پاتا ہے ، اور اس کی وجہ سے پریشان ہو جاتا ہے ، اور پھر وہ سامان اسے اپنے پہلو میں مل جاتا ہے ( تو اللہ تعالیٰ ان سب کی وجہ سے مؤمن کی مغفرت کر دیتا ہے ) یہاں تک کہ مومن اپنے گناہوں کے حوالے سے نکل کر یوں ہو جاتا ہے جیسے بھٹی میں سے سرخ ڈلی نکلتی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امینہ نامی خاتون سے میں واقف نہیں ہوں ۔