کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ جو شخص برا عمل کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا “
حدیث نمبر: 10956
عَنْ آمِنَةَ أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ زَوْجَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ قَوْلِهِ : ( مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ ) قُلْتُ : مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ مُنْذُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْهَا فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، هَذِهِ مُبَايَعَةُ اللَّهِ الْعَبْدَ لِمَا يُصِيبُهُ مِنَ الْحُمَّى وَالنَّكْبَةِ وَالشَّوْكَةِ ، حَتَّى الْبِضَاعَةِ يَضَعُهَا فِي كُمِّهِ فَيَفْقِدُهَا فَيَفْزَعُ لَهَا فَيَجِدُهَا فِي ضِبْنِهِ ، حَتَّى إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيَخْرُجُ مِنْ ذُنُوبِهِ كَمَا يَخْرُجُ التِّبْرُ الْأَحْمَرُ مِنَ الْكِيرِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَمِينَةُ لَمْ أَعْرِفْهَا . ¤
محمد محی الدین
آمنہ نامی خاتون بیان کرتی ہیں : انہوں نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں ، ان سے اللہ تعالی کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” جو شخص برا عمل کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا “ ۔ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : جب سے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں دریافت کیا ہے اس کے بعد کبھی کسی نے مجھ سے اس کے بارے میں نہیں پوچھا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تھا : ” اے عائشہ ! یہ اللہ تعالیٰ کا بندے کے ساتھ لین دین ہے اللہ تعالیٰ بندے کو بخار تکلیف کانٹا لگنے جیسی آزمائش میں مبتلا کرتا ہے یہاں تک کہ وہ سامان جو اس نے اپنی آستین میں رکھا ہوتا ہے ، اور پھر اسے غیر موجود پاتا ہے ، اور اس کی وجہ سے پریشان ہو جاتا ہے ، اور پھر وہ سامان اسے اپنے پہلو میں مل جاتا ہے ( تو اللہ تعالیٰ ان سب کی وجہ سے مؤمن کی مغفرت کر دیتا ہے ) یہاں تک کہ مومن اپنے گناہوں کے حوالے سے نکل کر یوں ہو جاتا ہے جیسے بھٹی میں سے سرخ ڈلی نکلتی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امینہ نامی خاتون سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امینہ نامی خاتون سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 10957
وَعَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ رَجُلًا تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ : مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ قَالَ : إِنَّا لَنُجْزَى بِكُلِّ مَا عَمِلْنَا ؟ هَلَكْنَا إِذًا . فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " نَعَمْ ، يُجْزَى بِهِ الْمُؤْمِنُ فِي الدُّنْيَا مِنْ مُصِيبَتِهِ فِي جَسَدِهِ فِيمَا يُؤْذِيهِ " . قُلْتُ : لَهَا فِي الصَّحِيحِ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں وہ بیان کرتی ہیں : ایک شخص نے یہ آیت تلاوت کی : ” جو شخص برا عمل کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا “ ۔ اس شخص نے کہا: اگر ہمیں ہمارے کیے ہوئے ہر عمل کا بدلہ دیا جائے گا ، تو پھر تو ہم ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جی ہاں مومن کو دنیا میں اس کا بدلہ دے دیا جائے گا جو اس کے جسم میں لاحق ہونے والی مصیبت ( بیماری یا تکلیف ) کی شکل میں ہو گا جو اسے اذیت دیتی ہو گی “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے ایک حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے جو اس حدیث کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10958
وَعَنْ حَيَّانَ بْنِ بِسْطَامٍ قَالَ : كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ ، فَمَرَّ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ وَهُوَ مَصْلُوبٌ فَقَالَ : رَحِمَكَ اللَّهُ أَبَا خُبَيْبٍ ، سَمِعْتُ أَبَاكَ - يَعْنِي الزُّبَيْرَ - يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ فِي الدُّنْيَا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمِ بْنِ حَيَّانَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
حیان بن بسطام بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا ان کا گزر سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا جنہیں سولی پر لٹکا دیا گیا تھا ، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اے ابوخبیب اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے میں نے آپ کے والد یعنی سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” جو شخص برا عمل کرے گا اسے اس کا بدلہ دے دیا جائے گا “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) یعنی دنیا میں ایسا ہو گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن سلیم بن حیان ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن سلیم بن حیان ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔