حدیث نمبر: 10944
عَنِ الْفَلَتَانِ بْنِ عَاصِمٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، وَكَانَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ دَامَ بَصَرُهُ ، مَفْتُوحَةً عَيْنَاهُ ، وَفَرَغَ سَمْعُهُ وَقَلْبُهُ لِمَا يَأْتِيهِ مِنَ اللَّهِ ، قَالَ : فَكُنَّا نَعْرِفُ ذَلِكَ مِنْهُ . قَالَ : فَقَالَ لِلْكَاتِبِ : " اكْتُبْ لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . قَالَ : فَقَامَ الْأَعْمَى فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا ذَنْبُنَا مَا نَزَّلَ اللَّهُ ؟ فَقُلْنَا لِلْأَعْمَى : إِنَّهُ يَنْزِلُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَافَ أَنْ يَكُونَ أَنْ يَنْزِلَ عَلَيْهِ شَيْءٌ فِي أَمْرِهِ ، فَبَقِيَ قَائِمًا يَقُولُ : أَعُوذُ بِغَضَبِ رَسُولِ اللَّهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلْكَاتِبِ : اكْتُبْ ( غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ ) . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَبَقِيَ قَائِمًا يَقُولُ : أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا فلتان بن عاصم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے اللہ تعالیٰ نے آپ پر وحی نازل کی جب آپ پر وحی نازل ہوتی تھی ، تو آپ کی آنکھیں کھلی رہتی تھی اور آپ کی سماعت اور توجہ اسی کی طرف مبذول رہتی تھی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم آیا ہوتا تھا ۔ راوی کہتے ہیں : ہمیں آپ کی کیفیت سے پتہ چل جاتا تھا ( کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے ) راوی بیان کرتے ہیں : پھر آپ نے لکھنے والے سے یہ ارشاد فرمایا : تم یہ یکھو : ” اہل ایمان میں سے بیٹھے رہ جانے والے ( یعنی جہاد میں شرکت نہ کرنے والے ) اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے لوگ برابر نہیں ہیں “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ایک نابینا صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارا کیا قصور ہے اس بارے میں جو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے ہم نے اس نابینا شخص سے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہے اس شخص کو یہ ڈر ہوا کہ کہیں اس کے بارے میں کوئی چیز نازل نہ ہو جائے وہ مسلسل کھڑا رہا اور یہ کہتا رہا کہ میں اللہ کے رسول کے غضب سے پناہ مانگتا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھنے والے سے فرمایا : تم یہ لکھو : ” ( بیٹھے رہ جانے والے یعنی جہاد میں شرکت نہ کرنے والے وہ لوگ ) جنہیں کوئی ضرر لاحق نہ ہو “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے امام طبرانی نے بھی اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : وہ شخص کھڑا ہوا یہی کہتا رہا : ” میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں “ ۔ امام ابویعلیٰ کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10944
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12775)»