مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اس وقت کیا عالم ہو گا کہ جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ کو لے کر آئیں گے “
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ فَضَالَةَ الظَّفَرِيِّ ، وَكَانَ مِمَّنْ صَحِبَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَاهُمْ فِي مَسْجِدِ بَنِي ظَفَرٍ ، فَجَلَسَ عَلَى الصَّخْرَةِ الَّتِي فِي مَسْجِدِ بَنِي ظَفَرٍ الْيَوْمَ وَمَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، وَأَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَارِئًا فَقَرَأَ حَتَّى أَتَى عَلَى هَذِهِ الْآيَةِ : ( فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا ) فَبَكَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى اضْطَرَبَ لَحْيَاهُ ، فَقَالَ : " أَيْ رَبِّ ، شَهِدْتُ عَلَى مَنْ أَنَا بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِ ، فَكَيْفَ بِمَنْ لَمْ أَرَ ؟ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا محمد بن فضالہ ظفری رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک ہیں وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنوظفر کی مسجد میں ان لوگوں کے پاس آئے آپ بنوظفر کی مسجد میں موجود اس پتھر پر تشریف فرما ہوئے جو آج بھی موجود ہے آپ کے ساتھ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام موجود تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قاری کو حکم دیا اس نے تلاوت کرنی شروع کی یہاں تک کہ وہ اس آیت پر پہنچا : ” اس وقت کیا عالم ہو گا کہ جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ کو لے کر آئیں گے اور تمہیں ان سب پر گواہ کے طور پر لے آئیں گے “ ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رونے لگے یہاں تک کہ آپ کی داڑھی مبارک تر ہو گئی آپ نے ارشاد فرمایا : ” میں ان پر اس وقت تک گواہ ہوں جب تک میں ان کے درمیان موجود ہوں ، میں ان کا گواہ کیسے بنوں گا جنہیں میں نے دیکھا ہی نہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔