حدیث نمبر: 10925
عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ : ( إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا ) فَذَكَرَ الْكِبْرَ فَعَظَّمَهُ ، فَبَكَى ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : "مَا يُبْكِيكَ ؟ " . فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنِّي لَأُحِبُّ الْجَمَالَ حَتَّى إِنَّهُ لَيُعْجِبُنِي أَنْ يَحْسُنَ شِرَاكُ نَعْلِي ، قَالَ : " فَأَنْتَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، إِنَّهُ لَيْسَ مِنَ الْكِبْرِ بِأَنْ تَحْسُنَ رَاحِلَتُكَ وَرَحْلُكَ ، وَلَكِنَّ الْكِبْرَ مَنْ سَفِهَ الْحَقَّ وَغَمَصَ النَّاسَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ ، وَأَبُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لَمْ يُدْرِكْ ثَابِتَ بْنَ قَيْسٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” بے شک اللہ تعالیٰ اس شخص کو پسند نہیں کرتا جو تکبر کرنے والا فخر کرنے والا ( خود پسند ) ہو “ ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبر کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کے زیادہ خراب ہونے کو بیان کیا تو سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ رونے لگ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا تم کس بات پر رو رہے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں جمال کو پسند کرتا ہوں یہاں تک کہ مجھے تو یہ بات بھی پسند ہے کہ میرے جوتے کا تسمہ بھی اچھا ہونا چاہیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اہل جنت میں سے ہو ، تکبر یہ نہیں ہے کہ تمہاری سواری یا تمہارا پالان اچھا ہو بلکہ تکبر اس شخص کا ہوتا ہے ، جو حق سے روگردانی کرے اور لوگوں کو کمتر سمجھے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ، اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے اس کے والد عبدالرحمن نے سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10925
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1318)»