مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اس وقت کیا عالم ہو گا کہ جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ کو لے کر آئیں گے “
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ لَبِيبَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ : ( فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا ) بَكَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : " يَا رَبِّ هَذَا شَهِدْتُ عَلَى مَنْ أَنَا بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِ ، فَكَيْفَ بِمَنْ لَمْ أَرَ ؟ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ لَبِيبَةَ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤یحیی بن عبدالرحمن بن لبیبہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” اس وقت کیا عالم ہو گا کہ جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ کو لے کر آئیں گے اور تمہیں ان سب پر گواہ بنا کر لے آئیں گے “ ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رونے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے میرے پروردگار ! میں ان لوگوں پر گواہ ہوؤں گا جن کے درمیان میں موجود ہوں تو ان کا گواہ کیسے بنوں گا جنہیں میں نے دیکھا ہی نہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے عبدالرحمن بن لبیبہ سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔