مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ التَّوَضُّؤِ مِنْ جُلُودِ الْمَيْتَةِ وَالِانْتِفَاعِ بِهَا إِذَا دُبِغَتْ . باب: مردار کی کھال کی جب دباغت کر لی گئی ہو (تو اس سے بنے ہوئے مشکیزے میں موجود پانی کے ذریعے ) وضو کرنا یا اُس کھال سے نفع حاصل کرنا
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ ، فَمَرَّ بِأَهْلِ أَبْيَاتٍ مِنَ الْعَرَبِ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ : هَلْ مِنْ مَاءٍ لِوُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالُوا : مَا عِنْدَنَا مَاءٌ إِلَّا فِي إِهَابِ مَيْتَةِ دَبَغْنَاهَا بِلَبَنٍ . فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ أَنَّ دِبَاغَهُ طَهُورَهُ ، فَأُتِيَ بِهِ ، فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی جنگ میں شرکت کے لیے جا رہے تھے ، آپ کا گزر عربوں کے کچھ گھروں کے پاس سے ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پیغام بھیجا ، کیا اللہ کے رسول کے وضو کرنے کے لیے پانی ہے ؟ ان لوگوں نے جواب دیا : ہمارے پاس تو جو پانی موجود ہے ، وہ صرف مردہ جانور کے چمڑے ( سے بنے ہوئے مشکیزے ) میں ہے ، جس کی ہم نے دودھ کے ذریعے دباغت کر لی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پیغام بھیجا کہ اس کی دباغت ہی ، اُسے پاک کرنے کا ذریعہ ہے ، پھر وہ پانی لایا گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کے ذریعے وضو کر کے نماز ادا کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔