مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ التَّوَضُّؤِ مِنْ جُلُودِ الْمَيْتَةِ وَالِانْتِفَاعِ بِهَا إِذَا دُبِغَتْ . باب: مردار کی کھال کی جب دباغت کر لی گئی ہو (تو اس سے بنے ہوئے مشکیزے میں موجود پانی کے ذریعے ) وضو کرنا یا اُس کھال سے نفع حاصل کرنا
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِي : " يَا بُنَيَّ ادْعُ لِي مِنْ هَذِهِ الدَّارِ بِوَضُوءٍ " فَقُلْتُ : رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَطْلُبُ وَضُوءًا ، فَقَالَ : أَخْبِرْهُ أَنَّ دَلْوَنَا جِلْدُ مَيْتَةٍ ، فَقَالَ : " سَلْهُمْ : هَلْ دَبَغْتُمُوهُ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : " فَإِنَّ دِبَاغَهُ طَهُورَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ دُرُسْتُ بْنُ زِيَادٍ عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، وَكِلَاهُمَا مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتا ہوا جا رہا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : اے میرے بیٹے ! میرے لیے اس گھر سے وضو کا پانی لے کر آؤ ! میں نے ( ان گھر والوں سے ) کہا: اللہ کے رسول وضو کا پانی طلب کر رہے ہیں ، اس شخص نے کہا: تم انہیں بتا دو ! کہ ہمارا ( چمڑے سے بنا ہوا ) ڈول مردار کی کھال سے بنا ہوا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ان سے دریافت کرو ، کیا تم لوگوں نے اس کی دباغت کی تھی ، اُن لوگوں نے ( دریافت کرنے پر ) جواب دیا : جی ہاں ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کی دباغت اس کی طہارت کا ذریعہ ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اس کو درست بن زیاد نے یزید رقاشی سے نقل کیا ہے اور ان دونوں سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔